ہم رنگ و نسل کے نہیں ظلم کے خلاف ہیں: منظور پشتون

منظور پشتون ، جو پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما ہیں ، نے کہا کہ وہ رنگ اور نسل کے خلاف نہیں ، بلکہ جہاں کہیں بھی اور جس بھی شکل میں ہو ظلم کے خلاف ہیں۔

منظور پشتون نے کہا کہ پی ٹی ایم رنگ و نسل کی بنیاد پر لوگوں سے نفرت کرنے کے لئے نہیں بنی، بلکہ ان لوگوں کے خلاف ہے جنہوں نے پشتونوں کو مارا اور ان کے گھروں تباہ کیا۔

منظور پختون نے یہ باتیں 6 دسمبر کو کراچی کے علاقے صحراب کوٹ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیں ، پی ٹی ایم کے مطابق جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

انہوں نے پشتونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے مسائل کو حل کرنے کیلئےمتحد ہوں۔

انہوں نے کہا ، “قبائل میں تقسیم نہ ہو ، یہ ہماری تباہی کا راستہ ہے اور یہی قوم میں نفرت پھیلانے کا طریقہ ہے۔”

منظور پشتین نے اپنی تقریر میں ماضی کی طرح پشتون سرزمین پر ماضی اور حال کی صورتحال کو یاد کرتے ہوئے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا ان کے مطابق اس سب زمیدار ریاست ہے ۔

انہوں نے کہا ، “ایک طرف ، ڈیڑھ لاکھ قبائلی خاندان تباہ ہوچکے ہیں اور دوسری طرف ، سابق پاکستانی فوج کے جنرل کیانی نے آسٹریلیا کے جزیرے خرید لیں ہے۔

منظور نے فوج کا ذکر کرتے ہوئے کہا ، “وہ کسی نہ کسی بہانے پشتونوں کے مختلف علاقوں میں زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔ پشتون کسی کو بھی اپنی زمینوں پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔

انہوں نے قبائلی اضلاع خصوصا شمالی وزیرستان میں بدامنی کے بارے میں کہا ، “یہاں ہر روز ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہیں لیکن ریاست خاموش ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ باجوڑ ، سوات ، چمن ، پشاور ، کراچی اور دیگر علاقوں میں پشتونوں کو قتل کیا جارہا ہے لیکن کسی سے پوچھا نہیں گیا اور نہ ہی کسی کو انصاف دیا گیا۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما نے مزید کہا ، “متاثرین وہ ہیں جو قدرتی آفات سے متاثر ہیں۔ ہم متاثرین نہیں ہیں۔ ہم مظلوم ہیں۔ ہم پر ظلم کیا گیا ہے۔

انہوں نے پشتون تحفظ موومنٹ کے ساتھی قیدیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ، “ریاست میں امن کی بات کرنے والے قید ہیں جبکہ قاتل آزاد ہیں۔

انہوں نے سندھ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ کراچی کے پشتون آبادی والے علاقوں میں نہ تو کوئی کالج تھا اور نہ ہی اسپتال ، لیکن بہت سے تانے ہیں جو پشتونوں سے بتہ لینے کیلے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ، “ہم کراچی میں امن چاہتے ہیں ، بھائی چارہ چاہتے ہیں ، ہم دوسری اقوام کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں۔

منظور پشتون نے اپنے خطاب کے آخر میں اعلان کیا کہ تحریک کا اگلا جلسہ 27 دسمبر کو خیبر میں ہوگا۔