کشمیر پریمئیر لیگ کا نعرہ ہے کہ “کھیل آزادی سے” حتیٰ کہ دہشت گرد بھی

کشمیر پریمئیر لیگ کا نعرہ ہے کہ “کھیل آزادی سے” اور یہ بات بالکل سچ ہے کیونکہ وہاں سب آزادی سے کھیل رہے ہیں حتیٰ کہ ایک دہشت گرد بھی ایک ٹیم کا مالک ہے اور آزادی سے کھیل رہا ہے۔ خبر یہ کہ کشمیر پریمئیر لیگ کی نیلامی میں شاہد آفریدی کے ساتھ بیٹھا یہ شخص ضلع خیبر کا رہائشی جان ولی آفریدی عرف شاہین ہے جو ماضی میں بدنام زمانہ دہشت گرد رہ چکا ہے، اب بھی گوڈ طالب اور اب کشمیر پریمئیر لیگ میں ٹیم راولاکوٹ ہاکس کا مالک ہے۔

جان ولی شاہین پہلے خیبر ایجنسی میں دہشتگرد گروپ لشکر اسلام میں تھا پھر توحید اسلام میں گیا بعد میں سرینڈر ہوا اور گوڈ ٹالب بن گیا۔ توحید اسلام گروپ فوج کا حمایتہ یافتہ گروپ ہے جو کہ امن لشکر کے نام سے گوڈ ٹالبان بنے ہوئے ہیں (تصاویر کمنٹ میں)۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ موصوف زخہ خیل کے علاقے سے افغانستان میں اسمگلنگ کرتا ہے اور منشیات کی سمگلنگ میں بھی خوب پیسے بنا رہا ہے۔ آجکل یہ تیراہ کے سپاہ قوم کے علاقے میں ٹالپان کا ٹرینگ کیمپ چلا رہا ہے۔ یاد رہے کہ سپاہ تیراہ میں عوام کیلئے ایک نو گو یعنی ممنوعہ علاقہ ہے اور اداروں کی جانب انہی لوگوں کیلئے بنایا ہے تاکہ یہ لوگ آسانی سے اپنے کام کریں۔ علاقے کے لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ موصوف خفیہ اداروں کا خاص بندہ ہے لیکن ڈر کی وجہ کوئی کچھ نہیں بولتا۔

8 آگست 2019 کو موصوف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی تنظیم کے رضاکار کشمیر کی آزادی کیلئے حکومت پاکستان اور پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کیلئے تیار ہے۔ گوڈ ٹالب نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کی بزدل فوج کو مقبوضہ کشمیر سے بھگانے کیلئے تمام قبایئلی عوام پہلے کی طرح اب بھی تیار ہے اس لئے ہندوستان کو تنبیہ دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کرنے کا سوچ دل سے نکال دے۔

کشمیر کے اسمبلی میں علماء و مشائخ کے سیٹ پر بدنام زمانہ دہشت گرد کو نامزد کرنے اور جان ولی شاہین دہشت گردوں کو کشمیر پریمئیر لیگ میں ٹیم دے کر ریاست دہشت گردوں کو اور بھی مین سٹریم کر رہی ہے جو پاکستان کے اُس بیانئے کے بالکل مطابق ہے جِس کے مطابق اُسامہ بن لادن، مِلا عمر، حافظ سعید، وغیرہ جیسے دہشت گرد قومی اثاثے ہے جبکہ انسانی حقوق کی بات کرنے والے لوگ دہشت گِرد۔ ایسے پالیسی والے ملک کا ماضی اور حال سب کے سامنے جبکہ مستقبل سب پر واضح ہے۔