کابل یونیورسٹی سے فائریگ کی آواز سنی گئیں

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان طارق عرین نے تصدیق کی ہے کہ کابل یونیورسٹی میں شاٹس کی آوازیں سنی گئیں لیکن انہوں نے کہا کہ فائرنگ کی تفصیلات فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکیں۔

انہوں نے مختلف ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے اور وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

کابل یونیورسٹی کے ایک لیکچرر نے یہ بھی کہا کہ گولیاں یونیورسٹی کے جنوبی گیٹ سے سنی گئیں ، جس کے بعد سیکیورٹی حکام نے یونیورسٹی کے پروفیسروں اور طلبا کو یونیورسٹی چھوڑنے کا حکم دیا۔

کچھ ذرائع نے بتایا کہ دھماکے اور فائرنگ کے بعد یونیورسٹی کے اندر جھڑپیں شروع ہوگئیں ، لیکن مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

گولیوں کی آواز کابل یونیورسٹی میں ایک کتابی نمائش کے دوران سنی گئیں۔

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ آیا یہ دہشت گرد حملہ تھا یا یونیورسٹی کے طلباء کے مابین تصادم تھا ، لیکن طالبان نے فوری طور پر ملوث ہونے سے انکار کیا۔