چین نے چاند پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا

امریکہ کے بعد اب چین وہ دوسرا ملک بن گیا ہے جس نے چاند پر اپنا قومی جھنڈا گاڑ دیا ہے۔

حال ہی میں چین نے چاند پر ایک خود کار خلائی گاڑی اتاری ہے جس کا مشن چاند سے مٹی اور چٹانوں کے سیمپلز اکٹھا کر کے انہیں زمین پر واپس لانا ہے- اس خلائی گاڑی کا نام Chang’e-5 Lander ہے- اس لینڈر نے چاند کی سطح پر کھدائی کر کے لگ بھگ دو کلو چٹانیں اکٹھا کیں اور انہیں ایک محفوظ باکس میں بند کر دیا- اس کے بعد اڑنے سے پہلے چاند پر چین کا جھنڈا گاڑا جس کی تصاویر زمینی سٹیشن کو بھیجیں- یہ یہ خلائی گاڑی چاند سے پرواز کر چکی ہے اور چاند کے گرد گھومنے والے خلائی جہاز کی طرف بڑھ رہی ہے- اس خلائی جہاز میں پہنچنے کے بعد چٹانوں کے سیمپلز کو لے کر خلائی جہاز زمین کی طرف واپس آئے گا اور اس ماہ کے وسط میں چین کے ایک صحرائی علاقے میں واپس اترے گا- یہ پچاس سال میں پہلا موقع ہو گا کہ چاند سے چٹانیں زمین تک پہنچیں گی۔

اس سے پہلے امریکہ چاند پر چھ مختلف جگہوں پر اپنا قومی جھنڈا گاڑ چکا ہے- سب سے پہلے 1969 میں اپالو گیارہ کے خلابازوں نے چاند پر امریکی جھنڈا گاڑا تھا- اس کے بعد اپالو کے مزید پانچ مشن چاند پر مختلف مقامات پر اترے اور چاند کی سطح پر امریکی جھنڈا نصب کیا- ماہرین کا خیال ہے کہ پچاس سالوں میں الٹرا وائلٹ شعاعوں کی وجہ سے امریکی جھنڈوں کا رنگ اب تک اڑ چکا ہو گا اور وہ محض سفید رنگ کے جھنڈے بن چکے ہوں گے۔

چین نے آج جو قومی جھنڈا چاند پر نصب کیا ہے وہ ایسے میٹیریل سے بنا ہے جس کے بارے میں امید ہے کہ وہ صدیوں تک چاند کے درجہ حرارت کی شدید کمی بیشی اور الٹرا وائلٹ شعاعوں کو برداشت کر پائے گا اور خراب نہیں ہو گا- امریکی اپالو مشنز کے برخلاف، چین کا یہ مشن خود کار مشن ہے یعنی اس میں کوئی خلاباز موجود نہیں ہے۔