چودہ اگست پاکستان کے سالگرہ کا دِن یا یوم آزادی ؟ ۱۹۴۷ کے اس دن سے پہلے جب پاکستان کا وجود ہی نہیں تھا تو پھر آزادی کیسی؟۔

تحریر : مظھر آزاد

جِس دِن آپ پیدا ہوتے ہیں تو اگلے سال یا کئی سال بعد اُس دِن کو آپ آزادی کے دِن کے طور پر مناتے ہیں یا سالگرہ کے دِن کے طور پر؟ واضح بات ہے کہ سالگرہ کے دن کے طور پر کیونکہ اپنے پیدائش سے پہلے آپ کوئی وجود نہیں رکھتے تھے اور آپ کو کسی نے غلام یا قیدی بنایا تھا اسلئے اِس دِن کو پیدائش کے دِن کے طور پر منایا جاتا ہے نا کہ آزادی کے دِن کے طور۔ ہاں اگر بعد میں آپ کو کوئی ذاتی یا سیاسی طور پر غلام بنائے تو اُس غلامی سے نکلنے والے دِن کو آپ مستقبل میں آزادی کے دِن کے طور پر منا سکتے ہیں۔

اب مسئلہ یہاں پر یہ ہے کہ پاکستان کِس لحاظ سے 14 اگست کو آزادی کے دِن کے طور پر مناتا ہے جو 14 اگست سے پہلے کوئی وجود نہیں رکھتا تھا۔ جب وجود نہیں رکھتا تھا تو غلامی اور آزادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ اصل میں پاکستان کے سالگرہ کا دِن ہے لیکن چونکہ “آزادی” ایک رومانوی لفظ ہے اور یہ انسانوں کے جذبات کو اپیل کرتا ہے اسلئے لوگوں کے جذبات کو ٹارگٹ کرنے کیلئے سالگرہ کو “آزادی” کا نام دیا گیا حالانکہ اِن لوگوں کو آزادی کا مفہوم ہی نہیں پتہ۔ آزادی کا مفہوم معلوم کرنا ہو تو بنگالیوں سے پتہ کریں۔

آزادی کا دِن اصل میں ہندوستان کیلئے ہے کیونکہ کل یہ 15 اگست کو انگریز سامراج سے ہندوستان کو آزادی ملی تھی۔ ولی خان نے کسی موقع پر کہا تھا “کانگریس نے ازادی مانگی تھی اور مسلم لیگ نے پاکستان، اسلئے انگریز نے ہندوستان کو ازادی دی اور مسلم لیگ کو پاکستان”۔اِس بات سے قطع نظر کہ پاکستان کے سالگرہ کا اصل دِن کل یعنی 15 اگست ہے اور پاکستان اور اُس میں رہنے والے اقوام آج کتنے آزاد ہے آج کے دِن کا آزادی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ایڈولف ہٹلر کے کاشوں کا ایک نتیجہ ہے جِس کی وجہ سے انگریز نے ہندوستان کو آزادی دی اور یہاں مستقبل میں مغربی سامراج کے مفادات کے تحفظ کیلئے ایک نیا ملک پاکستان بنایا۔

یہ تو جناح صاحب نے بھی کہا تھا کہ “میں نے اپنے ٹائپ رائٹر اور سیکرٹری کی مدد سے پاکستان بنایا”۔ یہ نہیں کہا کہ آزاد کرایا۔ ویسے یہ بھی سوچنے کی بات ہے کیا ملک بنانا ٹائپ رائٹر اور سیکرٹری کا کام ہوتا ہے یا انقلابی سیاسی جماعتوں کے طویل جدوجہد کا ثمر ہوتا ہے؟