پی ٹی ایم اور پی ڈی ایم

تحریر: عبدالروف یوسفزئی

ان دونوں تحاریک کے نعرے دلفریب اور لتا جی کی آواز جیسے سر و تال سے بھرپور ہیں مارشلاؤں کےتخلیق کارسفاک ہونے کے ساتھ ساتھ نرگسیت کے اعلی درجے پر بھی فائز ہیں مگر “یہ جو دہشت گردی اور ووٹ کو عزت دو “ دو الگ الگ بیانیے ہیں ووٹ کو عزت دو میں ن لیگ اور مولانا صاحب ڈائریکٹ تصادم کے موڈ میں ہیں اور ہونا بھی چاہیے ڈیپ سٹیٹ کے اداکاروں کی سیاسی مداخلت اور منتخب افراد کو بے عزت کرنے کے لئےکسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور اتحاد کی باقی جماعتیں بیک فٹ پر کھیل رہی ہیں ذرائع سے یہی سنا ہے کہ سیاسی پنڈت یہ سب کچھ ایک حکمت عملی کے تخت کررہے ہیں سیاسی قیادت آئین کی بالادستی کے لئے اکٹھے ہوگئے ہیں عاصم باجوہ کو ریلیف دینے کے لئے کوئی قانون پائپ لائن میں ہے کٹھ پتلی حکومت کے کارنامے تاریخ کا حصہ ہوں گے۔

مگر پشتون تخفظ موومنٹ کے اہداف اور نعرے انتہا پر ہیں جس میں پشتون اور بلوچ بلٹ کے نوجوانوں کے لئے رومانس ہے یہ تحریک انسانی حقوق کی پامالی اور جنگی جرائم میں ملوث افسران کو سزا دینے اور ان کے نام سامنے لانے کا موقف اپناتی ہے یہ بیانیہ صاف پانی کی طرح واضح ہے ۔ اس خطہ میں نہ ختم ہونے والی جنگ نے پشتونوں کی سماج، معاشرت اور غرض یہ کہ ہر رخ بری طرح بگاڑا ہے منظور پشتین نے جس طرح کھل کر خفیہ اداروں کے نام لے لیکر کمال کردیا لوگوں نے بھی لبیک کہتے ہوئےہر جلسہ میں بھر انداز میں شرکت کرکے دل کی بھڑاس نکال دی۔ ارتقائی عمل جاری ہے پی ٹی ایم کو زندہ رہنا ہوگا۔ باقی یہ سوال کہ پی ٹی ایم اب کہاں ہے ؟ سادہ جواب یہی ہے کہ باجوڑ سے پشاور تک تینتالیس فوج چیک پوسٹس تھے۔ اور باقی جو چیلنجنگ بیانیہ پی ٹی ایم نے متعارف کیا وہ لائق تحسین ہے۔