وقار احمد سیٹھ: خاموش انقلابی

شیراز پراچہ

ہر انسانی موت ایک سانحہ ہوتا ہے ان لوگوں کے لیئے جو مرنے والے سے پیار کرتے ہیں، کچھ لوگوں سے محبت صرف ان کے عزیز ، رشتہ دار اور قریبی دوست کرتے ہیں جبکہ بعض کا دیوانہ ایک عالم ہوتا ہے، وقار احمد سیٹھ بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے جن سے لوگوں نے انکی زندگی میں بے پناہ محبت کی اور انہیں ناقابل یقین عزت و احترام دیا۔

وقار احمد سیٹھ چلے گیئے ہیں لیکن مجھے ابھی تک یقین نہیں آ پا رہا- میرے دل و دماغ میں ایک فلم چل رہی ہے- میں 1984/85 کے عرصے میں پہنچ چکا ہوں- یہ پشاور یونیورسٹی کا ایس ٹی سی ہال ہے یہاں ہم چند دوست ہر روز جمع ہوتے ہیں ان میں سے ایک وقار احمد سیٹھ بھی ہیں- ہم سیاسی امور و مسائل پر زور وشور سے بحث کرتے ہیں, پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں کہ کیونکر جنرل ضیاء الحق کی فسطائی حکومت کا مقابلہ کیا جائے اور کیسے صوبہ سرحد کے فوجی گورنر جنرل فضل حق کی عائد کردہ پابندیوں کو توڑا جائے- سپیشل برانچ ، آئی ایس آئی اور پولیس ہماری بو سونگھتے پھرتے ہیں، وہ جاننا چاھتے ہیں کہ ہم کیا کرنے والے ہیں- اس دور میں اکثر ہمارے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو جاتے تھے مگرتب پولیس پشاور یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل نہیں ہوسکتی تھی لحذا مجھ سمیت ہمارے بہت سارے دوستوں نے پشاور یونیورسٹی کو گھربنا رکھا تھا۔

میں پشاور یونیورسٹی کے ایک ڈیپارٹمنٹ میں طالبعلم تھا اور ساتھ سٹوڈنٹ لیڈر بھی تھا- اسی دور میں لاء کالج پشاور یونیورسٹی میں ایک شعلہ بیان مقرر چنگیزی ابھر کر سامنے آیا- پشاور شہر سے تعلق رکھنے والا چنگیزی بہت متاثر کن ، بارعب شخصیت کا مالک تھا- اسکی رعب دار مونچھیں اور خوش لباسی اسے دوسرے طلباء سے ممتاز کرتی تھی مگر چنگیزی کی اصل صلاحیت اسکا فن تقریر تھا- وہ اپنی سیاسی اور جذباتی تقاریر سے ماحول کو گرماتا اور حاضرین کو محضوظ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا- چنگیزی کے ساتھ ہر وقت ایک دبلا پتلا خاموش نوجوان بھی ہوتا تھا- اس نوجوان کا نام وقار احمد سیٹھ تھا- پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے میں اور چنگیزی اکثر اپنی گرما گرم تقاریر سے طلباء کو جوش دلاتے تھے مگر ہم دونوں کے ساتھ تیسرا خاموش نوجوان وقار احمد سیٹھ ہوتا تھا- وقار سیٹھ اور چنگیزی ہر وقت اور ہر جگہہ ساتھ نظر آتے تھے- سوچوں میں گم رھنے والے وقار سیٹھ اور شہنشاہ جذبات و شعلہ بیان مقرر چنگیزی کی یہ جوڑی مجھے حیران کردیتی تھی لیکن پھر رفتہ رفتہ میں نے وقار سیٹھ کو جاننا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ باہر سے خاموش اور پس منظر میں رھنے والے وقار سیٹھ کے اندر ایک طوفان موجزن ہے- حقیقت میں وہ انقلاب لانا چاھتا ہے، اس فسطائی نظام کو تبدیل کرنا چاھتا ہے، سیاست میں فوج کی مداخلت کا مخالف اور مارشل لاء کا دشمن ہے- وقار احمد سیٹھ ذوالفقار علی بھٹو شہید کا پروانہ تھا- بھٹو کی شہادت میں فوج اور عدلیہ نے جو کردار ادا کیا ہم سب کی طرح اس نے وقار سیٹھ کی روح کو بھی زخمی کردیا تھا۔

وقار احمد سیٹھ نے پہلے قانون کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد اسکے بعد پشاور یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا- مجھے خود بھی پڑھنے لکھنے کا شوق تھا اور وقار سیٹھ کے علاقائی اور عالمی سیاست کے بارے میں علم اور معلومات نے مجھے اسکے زیادہ قریب کردیا- پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن میں ہم دونوں انٹولکچلز کے طور پر پہچانے جانے لگے- پشاور یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں سٹڈی سرکلز میں وقار سیٹھ اور میں حصہ لیا کرتے تھے۔

وقار سیٹھ جمھوریت اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے تھے، وہ پاکستان میں نظام کی تبدیلی کو ناگزیر سمجھتے تھے اور انکا خیال تھا کہ پاکستان میں حق حکمرانی صرف اور صرف عوام کو حاصل ہونا چاھئیے- اس دوران جمہوریت کی بحالی کے ایک مظاہرے کے دوران مجھے سرکاری مہمان بنایا گیا جہاں میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں لیکن مجھے وقار سیٹھ جیسے دوستوں کی محفل بھی بہت یاد آئی- آخرکار جب 1986 میں محمد خان جونیجو نے ضیاء الحق کے نافذ کردہ سیاسی پابندیوں میں نرمی کی اور انتقامی کاروائیاں بند کیں تو ہمیں بھی سرکاری مہمان خانے سے باہر بھیج دیا گیا- میری پہلی خواہش وقار سیٹھ سے ملنا اور اپنی علمی و سیاسی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنا تھا- 1986 کا پورا سال ہم نے وقار سیٹھ کی صحبت میں گزارا۔

1987 میں مجبورا” میں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا کیونکہ ہمارے جماعت اسلامی کے دوست مجھ جیسے سرخے کو یونیورسٹی میں لیکچرر کی زمہ داری دینے پر آمادہ نہ تھے اور انہوں نے مجھے ایک ایڈھاک ملازمت سے بھی برطرف کروا دیا تھا- وقار سیٹھ نے وکالت شروع کردی اور میں نے روزنامہ جنگ پشاور جوائن کرلیا- اکثر شام کو پشاور صدر کے ڈینز ہوٹل کے ایک گوشے میں وقار سیٹھ اور میں بیٹھ کر تادیر سیاست اور انقلاب پر گفتگو کیا کرتے تھے- وقار کچھ کرنا چاھتا تھا وکالت کے زریعے اور میں انقلاب برپاء کرنا چاھتا تھا صحافت کے زریعے، یہ مشترک قدر ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا سبب بنں۔

وکیل بننے کے بعد وقار سیٹھ کا دفتر پشاور شہر میں تھا جہاں ہر سہہ پہر مزدور ،غریب اور ملازم پیشہ لوگوں کا جمگھٹا لگا رھتا تھا- وقار مزدوروں اور مزدور یونینز کے کیسز لڑا کرتا تھا- اکثر وہ اپنے کلائنٹس سے فیس بھی نہیں لیا کرتا تھا- دیکھتے ہی دیکھتے وقار سیٹھ بے بس اور بے سہارا لوگوں کی امید بن گیا اور وکیل کے طور پر چمکنے لگا، میرا صحافت میں سفر جاری رہا جس کے نتیجے میں مجھے پہلے اسلام آباد اور پھر لاہور منتقل ہونا پڑا۔

1992 میں جب میری پشاور واپسی ہوئی تو وقار سیٹھ ایک معروف وکیل بن چکا تھا- 1992 اور 98 کے درمیان میں اور وقار سیٹھ ایک دوسرے کی سرگرمیوں سے آگاہ ہوتے رہے- اس عرصے کے دوران میں لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار سے منسلک تھا اور ٹی وی پر بیک وقت دو مقبول پروگرام بھی کرتا تھا جبکہ وقار عدل و انصاف کے میدان میں قدم جما چکا تھا، ہماری ملاقاتیں گاہے بگاہے اب بھی ہوتی تھیں لیکن پہلے کی طرح نہیں ،1998 میں تعلیم کی غرض سے میں برطانیہ چلا آیا اور یوں وقار سے رابطہ ٹوٹ گیا، 2012 کے آخر میں جب میں واپس پاکستان پہنچا تو جہاں میں دوسرے دوستوں کے بارے معلومات حاصل کیں وھیں مجھے یہ جان کر بھی خوشی ہوئی کہ وقار سیٹھ عدل کے شعبے میں ایک درخشندہ ستارہ بن چکا ہے- پھر وہ وقت بھی دیکھا جب وقار سیٹھ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بن گیئے ، چیف جسٹس بننے سے پہلے بھی وقار سے رابطہ کم تھا لیکن میں انکی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرنا چاھتا تھا۔

2012 سے لیکر آج تک مجھے پاکستان میں دوبارہ ایڈجسٹ ہونے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا ہڑا، عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں جب وزیر اعظم عمران خان کا ایک دوست, جو وائس چانسلر بنا کر ہم پر مسلط کیا گیا تھا, نے مجھے پریشان کرنا شروع کیا تو میں نے مدد کے لیئے وقار سیٹھ سے رابطہ کیا- وقار ایک بااصول اور باوقار شخص تھا- وقار نے مجھے کہا کہ میں محکمانہ طریقے سے اپنا کیس پرسو کروں اور جس طرح دوسرے لوگوں کا کیس سامنے آئیگا اسی طرح میرا کیس بھی سامنے آنا چاھیئے- مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ وقار اس تمام عرصے کے دوران زرا بھی نہیں بدلا تھا- وہ نہ جھکنے والا تھا نہ بکنے والا- وقار نے کبھی ناانصافی نہیں کی، کبھی بددیانتی نہیں کی، کبھی غلط کو درست اور درست کو غلط نہیں کہا ، مجھے اپنے دوست پر مزید فخر ہوا- مجھے ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا مشورہ دیا گیا مگر میں نے وقار سیٹھ کی عدالت میں اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ میرے دوست کی غیر جانبداری پر کوئی حرف نہ آئے۔

شيراز پراچه