نیم دی ریپسٹ، شیم دی ریپسٹ

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پشاور میں صوبے میں جنسی جرائم پیشہ افراد اور جنسی استحصال ہونے والے بچوں کے نام اور عمر ظاہر کرنے کے لئے ایک خصوصی مہم چلائی جارہی ہے۔

نیم دی ریپسٹ، شیم دی ریپسٹ کے نام پر منسوب ، مہم چلانے والے کہتے ہیں کہ پاکستان میں بچوں اور کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث افراد کو اسی طرح سزا دی جانی چاہئے۔

تاکہ اور اس طرح کے واقعات نہ ہو۔

آج ،پشاور میں مہم چلانے والوں کے گروہ نے دوبارہ گروہ بندی کی اور متعدد افراد کے نام ظاہر کیے جو عصمت دری کے مقدمات میں ملوث تھے۔

یاد رہے یہ مہم اس وقت شروع ہوئی جب سپتمبر میں صوبہ پنجاب کے لاہور شہر میں موٹر وئے پر عصمت دری کا واقعہ پیش آیا تو طاہرہ کریم نامی سماجی حقوق کے کارکن اس مہم کا آعاز کیا۔

طاہرہ کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد نہ صرف عصمت دری کے خلاف آگاہی ہے بلکہ لوگوں کو اس بات کیلیے بھی تیار کرنا ہے کہ و جنسی زیادتی کے شکار افراد کا ساتھ دئے اور وئکٹم بلیمنگ کے عمل کو بھی سمجھ سکے۔