مظلوم اور لاپتہ پشتونوں کا حساب مانگ رہے ہیں: منظور پشتون

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما کا کہنا ہے کہ چمن کے بہت سے تاجروں کے لاپتہ یا شہید ہونے کی اطلاع ملی ہے ، جس سے حکومت کی طرف سوالات اٹھتے ہیں۔

منظور پختون نے (۲۷ نومبر) چمن میں پی ٹی ایم کے جلسے  سے حطاب کیا۔ منظور پختون کے علاوہ ، جلسے میں پی ٹی ایم کے متعدد رہنماؤں ، مقامی معززین اور سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔

اس موقع پر منظور پشتون کا کہنا تھا کہ حکومت اور فوج سے ان کا مطالبہ ہے کہ پشتونوں کو ہراساں نہ کیا جائے ، تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے اور ان کے گاؤں ، بازار اور کاروبار تباہ نہ ہونے دیں۔

انہوں نے کہا کہ چمن اور بولدک کے مابین تاجروں کے مسائل حل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں مختلف واقعات میں ، خاص طور پر چمن گیٹ پر جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی ہلاکتوں کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز (۲۷ نومبر) بلوچستان کی صوبائی حکومت نے چمن میں ان خاندانوں کے لواحقین کو مالی امداد تقسیم کی تھی جو رواں سال ۳۰ جولائی کو چمن بولدک گیٹ پر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے۔ ایک خاتون سمیت پانچ افراد ہلاک اور ۲۲ دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

بلوچستان حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے لئے ۱۵ لاکھ اور زخمیوں کے ل پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا ، وزیر داخلہ ضیا لانگو نے متاثرہ افراد کو ۷۹ لاکھ روپے کے چیک دیے تھے۔

چمن میں پشتون تحفظ موومنٹ کا جلسہ: ۲۷ نومبر ۲۰۲۰

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما نے، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان اسد اچکزئی اور دو تاجروں محمد نبی اور شاہ ولی کے لاپتہ ہونے کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان کو حفاظت دینے میں ناکام رہی ہے۔