قومی اسمبلی نے فرانس سے پاکستان کے غیر موجود ایلچی کو واپس بلانے کے لئے قرارداد منظور کردی

پیر کو قومی اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت سے گستاخانہ کارٹونز کے احتجاج کے لئے پیرس سے پاکستان کے ایلچی کو واپس بلانے کی اپیل کی ہے ، لیکن فرانس میں پاکستان کا کوئی سفیر موجود نہیں ہے۔

پیرس میں آخری سفیر معین الحق کو تین ماہ قبل چین بھیجا گیا تھا۔ جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امجد قاضی جو پیرس میں سب سے سینئر سفارتکار ہیں اس وقت تمام امور دیکھ رہے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو صورتحال سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے تھا ، لیکن جب قرارداد پیش کی جارہی تھی تو انہوں نے ایوان کو مطلع نہ کرنے کا انتخاب کیا۔

اس قرارداد میں فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے واپس بھیجنے کی بات نہیں کی گئی تھی کیونکہ اسطرخ کے احتجاج کو “انتہائی سخت” سمجھا جاسکتا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے گستاخانہ خاکوں کے دفاع نے ایک تنازعہ کھڑا کردیا۔ ان کے تبصرے کے بعد پاکستان سمیت متعدد ممالک میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی مسلمانوں کے بارے میں میکرون کے تبصرے کی مذمت کی اور سی ای او فیس بک ، مارک زکربرگ کو ایک خط لکھ کر اپنے پلیٹ فارم سے اسلام فوبیہ مواد پر پابندی عائد کرنے کے لئے کہا۔

ترکی نے پیرس سے بھی اپنے سفیر کو واپس بلایا اور ترک صدر نے میکرون کو ’ذہنی طور پر غیر مستحکم‘ قرار دیا۔ بیان میں دونوں ممالک کے مابین تناؤ کو بڑھاوا دیا ہے جو پہلے ہی متعدد امور پر تنازعات کا شکار ہیں۔