عبدالولی خان یونیورسٹی: درسگاہ یا قوم پرستوں کی سیاسی دکان؟ کالم اختر خان

فروری 2010 میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں بطور لیکچرر تعینات ہوا اور اسی مہینے اسلامیہ کالج پشاور میں بھی تعیناتی کے لیے شارٹ لسٹ ہوا تھا. میں اس وقت اسلامیہ کالج پشاور کو ایک تعلیمی درسگاہ کے بجائے ریاستی بیانئے سے جڑے پروپیگنڈہ کا ایک ہیڈکوارٹر سمجھتا تھا. اور عوامی نیشنل پارٹی والے قوم پرستوں کو نجات دہندہ سمجھتا تھا. اس لئے اسلامیہ کالج پشاور میں تعیناتی کے بجائے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کو اس نیت اور ارادے سے ترجیح دی(میں اج کل اس پر سخت پشیماں ہوں). کہ یہاں سے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں جو سٹڈی سرکل شروع کی ہے اسی طرز پر تنقیدی اور تحقیقی زہنیت کے لئے ایک موثر اور منظم قدم اٹھایا جائے. وضاحت کر دوں کہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں جو پروفیسر عاصم سجاد اختر کی رہنمائی میں جو سٹڈی سرکل ہوتا ہے. میں ان کے ساتھ پہلے ہی دن سے یہ سٹڈی سرکلز کرنے میں ساتھی بنا تھا. اگے مجھے اس ضمن میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں کن مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنہ کرنا پڑا اس کی تفصیل لکھتا ہوں۔

لیکچرر کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پہلے ہفتے جو پہلا انکشاف مجھ پر ہوا وہ یہ تھا کہ یہ جتنی ایک یونیورسٹی ہے اس سے کہیں بڑھ کر یہ قوم پرستوں کی ایک سیاسی دکان ہے. یونیورسٹی کے انتظامیہ اور سوشل سائنسز میں فیکلٹی کی تعیناتی جتنی میرٹ پر ہو رہی ہے اس سے کہیں زیادہ لوگ اقرباء پروری، سفارش اور رشوت دے کر بھرتی ہو رہے ہیں۔

کلاس سے باہر میری سرگرمیاں دیکھ کر 2012 میں اس وقت کی ڈیپارٹمنٹ کی انتظامیہ نے مجھے پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ سے تبادلہ کروا کر بزنس ایڈمنسٹریشن کے ڈیپارٹمنٹ کرا دی، تو اس وقت میرے چند شاگردوں نے کئی دن تک احتجاج کیا. یہ احتجاج اس وقت کامیاب ہوئی جب اس وقت کے وائس چانسلر احسان علی ایک تقریب کے سلسلے میں گرلز ہاسٹل گئے تھے تو وہاں پر طالبات نے تقریب میں اس شرط پر شرکت قبول کی تھی کہ اختر کو واپس اپنے ڈیپارٹمنٹ تبدیل کیا جائے گا. اسی ہفتے میرا تبادلہ دوبارہ پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کیا گیا۔

پہلی مرتبہ میری پروموشن 2014 میں اس پہلو کو بنیاد بنا کر روکی گئی کہ یہ یونیورسٹی انتظامیہ پر کرپشن، اقرباء پروری، سفارش اور رشوت جیسے الزامات لگا رہے ہیں. میں سینیر وکیل اور اج کل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی کے پاس شکوہ لے کر گیا. تو انہوں نے کئی مرتبہ سابقہ وزیراعلیٰ حیدر ہوتی سے فون پر بات کرنے کی کوشش کی. لیکن حیدر ہوتی ٹال مٹول سے کام لیتا رہا. لطیف آفریدی نے مجھے بتایا کہ قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے یہ چور کے بچے اب نہ تمہارا سامنہ کر سکتے ہیں اور نہ میرا. ہم نے دیکھ لیا کہ لطیف آفریدی کو عوامی نیشنل پارٹی نے اصولی موقف اختیار کرنے پر پارٹی سے نکالا لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا اور لطیف آفریدی اسی سال پاکستان کے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے. اسی سال میں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا تو یونیورسٹی انتظامیہ نے میری تنخواہ بند کر دی. حالانکہ اپنے منظور نظر لوگوں کو یونیورسٹی انتظامیہ وہ مراعات دیتی تھیں جس کی تفصیل مشال قتل رپورٹ میں سامنے آئی. مرحوم ڈاکٹر طاہر آمین کو جب میرے کیس کا پتہ چلا تو اس نے ڈاکٹر وقار علی شاہ سے بات کی. لیکن ڈاکٹر وقار علی شاہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کرنے کی بجائے خاموش رہنے پر اکتفا کیا۔

نامساعد حالات کے باعث میں نے قائداعظم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی چھوڑ دی، واپس عبدالولی خان یونیورسٹی مردان ایا اور 2015 کے اوائل میں پھر سے سٹڈی سرکل شروع کی تو یونیورسٹی انتظامیہ خصوصاً وائس چانسلر احسان علی اور پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے چیرمین ڈاکٹر جہانزیب نے میرے خلاف یونیورسٹی کو بدنام کرنے کا الزام لگا کر کیس بنا لیا جو دو مہینے چلتا رہا. یہ ایک پریشر ٹیکٹیک تھا اور بالآخر انتظامیہ کو وہ کیس چھوڑنا پڑا. دسمبر 2015 میں مجھے پھر سے انتظامیہ نے پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ سے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں تبادلہ کروا دیا. اور اسی سال ایک مرتبہ پھر میری پروموشن کینسل کرا دی، جون 2016 میں ایک مرتبہ پھر میری پروموشن کینسل کروا دی گئی. سیپٹیمبر 2016 میں ایک مرتبہ پھر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا. ڈاکٹر اشتیاق احمد نے مجھے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں ویزیٹینگ فیکلٹی میں جگہ دی. قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے اس وقت کے چیرمین ڈاکٹر اشتیاق احمد کو میرے ساتھ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں سیاحت کے وزیر عاقل شاہ سے بات کی. عاقل شاہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کی یا نہیں لیکن مجھے اس نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کسی صورت میں تمہیں کوئی رعایت دینے والے نہیں. مجھے عاقل شاہ کی باتوں سے محسوس ہوا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس کو قائل کیا ہے کہ اختر کی موجودگی یونیورسٹی میں ہمارے ایزی لوڈ قوم پرستی کے لئے نقصان دہ ہے۔

ایک دن غالباً اکتوبر 2016 میں سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیرمین نے شعور و آگہی پھیلانے کے لئے ایک ترکیب سوچی کہ کلاسز کے علاوہ ہر ہفتے ایک سمپوزيم سیمینار یا لیکچر ہونا چاہئے. اور کسی موضوع پر کسی ماہر کو لیکچر دینے بھلایا جائے. پہلے دونوں لیکچرز کے لئے مجھے بلایا گیا لیکن بعد میں وہ سارا سلسہ روک گیا. مجھے بعد میں پتہ چلا کہ انتظامیہ اور اساتذہ کے اندر اسی ایزی لوڈ گروپ نے میرے لیکچرز دینے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

یہ ساری صورتحال میں نے دسمبر 2016 میں اپنے استاد ماڈرن ملنگ کو سنا دی تو انہوں نے بددعا کی کہ اللہ تعالیٰ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کی انتظامیہ کو داڑے واڑے یعنی ٹوٹ پھوٹ اور توڑ پھوڑ کا شکار کر دے. اپریل 2017 میں مشال کا قتل ہوا تو یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ ملکی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی. مشال قتل رپورٹ شائع ہوئی، جس میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کو اقرباء پروری، سفارش، رشوت اور بداخلاقی کا گڑھ قرار دیا۔

جب سیپٹیمبر 2017 میں یونیورسٹی میں نیا سمسٹر شروع ہوا تو ماڈرن ملنگ نے اپنے ایک خلیفہ کو میرے ساتھ مشاورت اور مدد پر لگایا، ہم نے نومبر 2017 میں درویش سٹڈی سرکل شروع کی. تو یونیورسٹی انتظامیہ نے میرے خلاف پولیس کو رپورٹ کر دی. اگلے دن پولیس والے مجھ سے تفتیش کرنے ائے. پولیس والوں نے مجھ سے تفتیش کی. جب ساری صورتحال کا انہیں پتہ چلا تو انہوں نے حیرت کا اظہار کیا اور کوئی کیس بنائے بغیر چلے گئے. اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ اب واحد حل یہی ہے کہ سوشل میڈیا کا سہارا لیا جائے. یوں مفتی فرید صاحب کے خلیفہ ناٹی بوائے کے طریقہ کار کے مطابق سوشل میڈیا پر آپریشن پینگ پانگ کا آغاز کیا. اگست 2020 میں یونیورسٹی کے اندر اس ایزی لوڈ گینگ کے سرغنہ کرداروں کو حکومت نے نوکری سے برخواست کیا. جس میں نو بندے سترہ گریڈ سے اوپر کے افسر تھے۔

نوٹ؛ میں نے اپنا تجربہ یہاں پر لکھ دیا ہے. اپ اس سے جو معنی اخذ کرتے ہیں. وہ اپ پر چھوڑتا ہوں. میرے خیال میں یہ پشتون قوم کے اندر پائے جانے والے جہل، تعصبات اور اندھیر نگری کی عکاس ہے۔

فیس بک کے ساتھ اختر خان  تک پہنچیں