طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے شادی میں موسیقی سنتے ہوئے لوگوں کو قتل کیا تھا۔

سوشل میڈیا کے مطابق، مشرقی صوبہ ننگرہار کے ضلع ریڈ ریور میں طالبان عسکریت پسندوں نے تین افراد کو اس وقت گولی مار کر ہلاک اور 10 کو زخمی کر دیا جب وہ شادی کی تقریب میں موسیقی کی محفل سجائے ہوے تھے۔

طالبان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے واقعے کے سلسلے میں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور ایک فرار ہو گیا ہے۔

طالبان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس واقعے میں ان کا نام استعمال کرنے سے ذاتی عناد پروان چڑھی ہے۔

لیکن انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان کی حکومت نے افغانستان میں لوگوں کو موسیقی سننے کی اجازت دی ہے۔

سوشل میڈیا کے مطابق حاجی ملنگ جان نامی شخص ہفتے کی رات ضلع سورکھروڈ کے گاؤں سمس پور مرگنڈی میں شادی کی تقریب میں موسیقی بجا رہا تھا کہ طالبان عسکریت پسند وہاں داخل ہوئے اور تقریب میں شامل افراد پر فائرنگ کردی۔

طالبان کے ترجمان اور ڈپٹی انٹیلی جنس چیف ذبیح اللہ مجاہد نے واقعے کی تصدیق کی لیکن کہا کہ یہ طالبان کے نام پر ذاتی دشمنی ہے۔

ٹویٹر پر مجاہد نے لکھا کہ ‘گزشتہ رات ننگرہار کے گاؤں شمس پور مار غنڈی میں حاجی ملنگ جان کی شادی میں تین افراد نے طالبان کا نام استعمال کیا اور میوزک بند کرنے کا مطالبہ کیا’۔

مجاہد کے مطابق عسکریت پسندوں نے لوگوں پر فائرنگ کی جس سے تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

افغان فنکاروں اور گلوکاروں کے تقریباً 100 خاندانوں نے مبینہ طور پر پاکستان کے خیبرپختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں پناہ لی ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ طالبان کے دور حکومت میں ان کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق تھا اسلیے وہ اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوے۔