طالبان رہنما ہیبت اللہ اخونزادہ پہلی بار منظر پر اگئے۔

طالبان رہنما مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ، جو روپوش تھے، ۳۰ اکتوبر کو قندھار کے ایک مدرسے میں ایک اجتماع میں نمودار ہوئے۔

دو ہزار سولہ میں اس گروپ کے سربراہ کی تقرری کے بعد سے وہ منظر پر نہیں آئے تھے، اور ۱۵ اگست کو طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سے وہ عوام کے نظر سے اوجل رہے۔

ہیبت اللہ اخونزادہ نے دارالعلوم حکیمہ مدرسہ میں خطاب کرتے ہوئے مقتول طالبان اور افغانستان کے لوگوں کے لیے دعا کی جنہوں نے گزشتہ ۲۰ سالوں سے غیر ملکیوں کا مقابلہ کیا تھا۔

قندھار مدرسہ کا اجلاس سخت سکیورٹی میں منعقد ہوا اور اس ملاقات کی کوئی ویڈیو یا تصویر جاری نہیں کی گئی۔

طالبان نے سب سے پہلے ۲۹ اگست کو اپنے رہنما ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے صحیح مقام کا اعلان کیا تھا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مشال ریڈیو کو بتایا تھا کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ قندھار میں ہیں اور مناسب وقت پر خود کو عوام کے سامنے ظاہر کریں گے۔

طالبان میں شیخ صاحب کے نام سے مشہور ہیبت اللہ قندھار کے رہنے والے ہیں اور انہوں نے اپنی مذہبی تعلیم پاکستان میں حاصل کی۔