ضمیر کا قیدی

یہ شخص جو سخت سردی میں جیل کی فرش پر لیٹا ہوا ہے

اس کا نام علی وزیر ہے اور پشتونوں کے وزیر قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔

یہ پاک افغان بارڈر پر رہتا ہے جہاں بیس سال سے آگ لگی ہوئی ہے۔

یہ قومی اسمبلی (ربڑسٹیمپ) کا ممبر ہے۔

یہ اپنی قوم کا منتخب نمائندہ ہے۔

یہ اپنے خاندان کے اٹھارہ افراد کی لاشیں اٹھا چکا ہے۔

یہ اپنا سارا کاروبار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گنوا چکا ہے۔

یہ اپنے ملک کے چوکیداروں سے کہتا ہے کہ آئین مان لو اور احسان اللہ احسانوں کی سرپرستی چھوڑ دو۔

یہ اپنی قوم کے لئے زیادہ تر سڑکوں پر ہوتا ہے یا جیل میں ہوتا ہے۔

ریاست کہتی ہے یہ ملک دشمن، غدار اور بیرونی ایجنٹ ہے۔

آصف غفور سمیت پنجابی میڈیا، وٹس ایپ صحافیوں، پنجابی دوستوں اور ہمارے گل خانوں کو گلہ ہے کہ اتھارہ لاشیں اٹھانے اور سب کچھ گنوانے کے باوجود اس کا لہجہ سخت کیوں ہے اور یہ مولانا طارق جمیل کی طرح میٹھی میٹھی باتیں کیوں نہیں کرتا، جبکہ ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ اس نے ابھی تک خودکشی کیوں نہیں کی یا بندوق کیوں نہیں اٹھائی؟