صوابی: جرگہ پر فائرنگ سے آٹھ جانبحق ، دو زخمی

پولیس کا کہنا ہے کہ صوابی کے چھوٹے لاہور کے علاقے میں زمین کے تنازعہ کو حل کرنے کے لئے جرگہ کے دوران دو خاندانوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

لاہور پولیس اسٹیشن میں درج ایک ایف آئی آر کے مطابق ، یہ واقعہ ہفتے کے روز یار حسین چھوٹے لاہور کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے دو خاندانوں کے درمیان اس وقت پیش آیا جب دونوں فریقوں کے مابین جرگے میں بات چیت جاری تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کنبے کے قریبی رشتے دار ہیں اور اراضی کے پلاٹ کی ملکیت پر تنازعہ پیدا ہوا تھا۔اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے قومی اسمبلی کے سابق ممبر قومی اسمبلی سردار علی نے ایک جرگہ بلایا تھا۔

پولیس کے مطابق ، دونوں اطراف کے لوگوں نے جرگے میں حصہ لیا اور ایک دوسرے پر فائرنگ اس وقت شروع کردی جب دونوں فریقوں کے مابین بات چیت تلخ ہوگئی۔

درج ایف آئی آر کے مطابق فائرنگ سے عبید خان ، سکندر خان ، وقاص خان ، اکمل خان ، عبید اللہ ، سعید الرحمن اور ناصر خان نامی آٹھ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے پانچ کا تعلق ایک حاندان اور تین دیگر افراد کے کنبہ سے تھا۔

خیبر پختونخوا میں ، زمینوں اور دیگر تنازعات پر جرگوں میں اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں ، جس میں اب تک متعدد شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

رواں سال ۲۹ جولائی کو اپر دیر کے علاقے میں بھی دو خاندانوں کے مابین تصادم کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

اس کے علاوہ ۱۸ اگست کو لور دیر کے گوسم کے علاقے میں جرگہ کے دوران دو حریف گروپوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں 5 افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔