صرف باڑہ سے ۴۰ افراد لاپتہ ہیں: عالمزیب مسعود

لاپتہ افراد کے لئے سرگرم کارکن ، عالم زیب مسید نے بتایا کہ پشتون تخفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) باڑہ کے جلسے میں ۴۰ سے زیادہ افراد کا لیسٹ ترتیب دیا ہے جن کے لواحقین نے دعوی کیا ہے کہ وہ لاپتہ ہیں۔

پی ٹی ایم نے ۲۷ دسمبر کو ضلع خیبر کے باڑہ میں ایک ریلی نکالی ، جس میں ان لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جو اپنے رشتہ داروں کی تصاویر اٹھائے ہوئےتھیں جن کے بارے میں ان کا دعوی تھا کہ وہ لاپتہ ہیں۔

پشتون علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران لاپتہ افراد کی تلاش اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا پشتون تخفظ موومنٹ کا ایک کلیدی مطالبہ ہے۔

تحریک کے ہر جلسے میں لاپتہ افراد کے لواحقین موجود ہوتے ہیں ، اور پی ٹی ایم رہنما عالمزیب مسید خاص طور پر ان سے ملتے ہیں اور معلومات جمع کرتے ہیں۔

ان کے بقول ، یہ صرف باڑہ میں لاپتہ لوگوں کی لیسٹ ہیں اور ان کے خیال میں ، خیبر ضلع کے دیگر علاقوں جیسے لوارگہ (لنڈی کوتل) ، میدان اور تیرا میں یہ تعداد اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاپتہ کے کچھ رشتہ داروں نے وہ مکمل معلومات فراہم نہیں کی جو بین الاقوامی سطح پر قبول کی جاسکیں۔

ان کے مطابق ، تحریک گمشدہ افراد کے مسئلہ پر بین الاقوامی معیار کو قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ، جیسے لاپتہ شخص اور درخواست گزار کے شناختی کارڈ اور اس کے بارے میں اقرار نامہ شامل ہے۔

باڑہ جلسے میں ، احسان گل نے عالم زیب مسید کے ساتھ اپنے والد کی گمشدگی کے بارے میں بھی معلومات شیئر کیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے ۶۶ سالہ والد خانم اللہ کو ۱۹ جولائی۲۰۱۹ کو علی مسجد میں واقع اپنے گھر سے اغوا کیا تھا اور ان کے بقول ، انٹیلیجنس ایجنٹوں نے اٹھایا تھا۔

احسان گل کے مطابق انھیں اس وقت تک نہیں بتایا گیا کہ ان کے والد کو کس جرم میں اٹھایا گیا ہے۔

پشتون تخفظ موومنٹ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی ایجنسیوں پر لاپتہ ہونے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

لاپتہ افراد کے متعدد مقدمات بھی اس ملک کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

لیکن فوج اور حکومت بار بار ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد لاپتہ افراد کی انکوائری کا ایک کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔

کمیشن نے یہ اعدادوشمار مشال ریڈیو کو ۱۷ نومبر کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ۳۱ اکتوبر تک اس میں ۶۸۳۱ افراد کی گمشدگیوں کا اندراج کیا گیا تھا ، جن میں سے ۴۷۴۸ واپس ہوچکے ہیں اور بیشتر عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے۔

لیکن عالمزیب مسید نے بتایا کہ ان کے پاس پشتون علاقوں سے لاپتہ افراد کے ۳۵۰۰ نام ابھی بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یقینا. پچھلے دو سالوں میں ۱۵۰۰ افراد واپس آئے ہیں۔