شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے مہاجر اب بھی شدید مشکلات میں ہیں

دتہ خیل سے تعلق رکنے والے نوجوان نقیب کا کہنا ہے کہ جب آپریشن ضرب عضب شروع ہوا تو ، مختلف دیہات اور گھروں پر جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے بمباری کی جس سے بہت سے بے گناہ افراد شہید ہوگئے تھے ، وزیرستان کے عوام کو بے گھر کردیا گیا تھا۔

مہاجر کیمپوں میں رہنے والے بچوں کا حال دیکھے اس ویڈیو میں

اس نے کہا وطن واپسی کا عمل کچھ عرصے بعد شروع ہوا۔ بیشتر افراد لوٹ گئے تھے لیکن اب بھی مداخیل کی واپسی ممکن نہیں ہوئی ۔جب آپریشن شروع ہوا تو تمام سڑکیں بند کردی گئیں ، لہذا افغانستان ، برمل ، لامان ، افغان دبئی ، خوست میں بہت سے لوگ ہجرت کر گئے تھے ، ان میں سے بیشتر لوگ ابھی بھی خوست میں ہیں۔ گلن کیمپ بند ہیں۔ ان کیمپوں میں محصور لوگوں کا مطالبہ ہیں کہ انہیں اپنے علاقوں میں واپس جانے کی اجازت دی جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب لوگ مریضوں کو پاکستان لاتے ہیں تو انھیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ جب برمل کے نئے اڈے سے نکلتے ہیں تو تمام سڑکیں ان کے لئے بند ہوجاتی ہیں۔ وہ سڑک کے ذریعے طورخم سے سفر کرتے ہے تو پاکستانی اور افغان فوجی اس کے ساتھ بہت برا سلوک کرتے ہیں