سوات میں اسپیئر پارٹس سے بنی گاڑیاں ضبط ہوگئ

سوات میں پولیس نے مالاکنڈ ڈویژن میں اسپیئر پارٹس پر ہائی کورٹ کے بینچ کے پابندی کے فیصلے پر آپریشن شروع کیا ہے اور اب تک 60 سے زیادہ گاڑیاں ضبط کرلی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ملاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع ایک قانون کے تحت ٹیکس سے ماورا ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں لاکھوں غیر دستاویزی گاڑیاں موجود ہیں۔ ایسی گاڑیاں بھی ہیں جو سکریپ کے لئے اسپیئر پارٹس میں اس علاقے میں لائی گئیں اور پھر میکینکس کے ذریعہ بنی ہیں۔

سوات کے مینگوری سلیمان کا کہنا ہے کہ اس وقت ہزاروں گاڑیاں جو ایسمبل کی گئ ہیں، اس علاقے میں چل رہی ہے جس س غریب شہریوں کو ملازمت کے مواقعے مل رہے ہیں۔

انہیں پہلے یہ کام کرنا چاہئے تھا ، “اب لاکھوں کاریں ہیں۔ کسی نے زمین بیچ کر اور کسی نے اپنی بیویوں کے لئے زیورات فروخت کرکے گاڑیاں لی ہیں۔ اب جب وہ بے روزگار ہیں تو یہ لوگ کیا کریں گے؟” “ڈاکہ یا چوری کرینگے؟۔” انہوں نے مزید کہا۔

ایک کار بنانے والے ظفر اللہ خان نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف ہزاروں گاڑی چلانے والے متاثر ہوں گے بلکہ دیگر لوگ جیسے مکینک بھی بے روزگار ہونگے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہاں ۹۰٪ کٹ کاریں ہیں ، وہ غریب لوگ ہیں اور اب انہیں پولیس کے ذریعہ ہراساں کیا جارہا ہے ، اس سے نہ صرف ڈرائیور خضرات بے روزگار ہوجائیں گے بلکہ ڈینٹر ، میکینکس ، رنگساز ، پیٹرول پمپ اور بہت سے دیگر کو بھی متاثر کریں گے۔ سوات میں کوئی ٹیکس نہیں ہے ، تو پھر ایسے فیصلے کیوں کرتے ہیں؟

دوسری طرف ، سوات بار ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ اصغر خان نے کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق تھا ، لیکن ان میں صرف وہ گاڑیاں شامل تھیں جن کی کمپنی کے چیس پلیٹ نمبر کو کاٹا گیا تھا یا ویلڈڈ یا دوبارہ استعمال کیا گیا تھا۔ لہذا ایسی تمام گاڑیوں پر پابندی عائد ہے ، ان میں شامل نہیں جن کی کار باڈی کو تبدیل کیا گیا ہے ، یا دوبارہ سے بنائی گئ ہے۔ لوگوں کے بیشتر خدشات عام کٹ کاروں کے بارے میں۔