سندھ وزارتی کمیٹی کیپٹن صفدر کی تحقیقات کررہی ہے، روزانہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ

منگل کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر اعوان کی گرفتاری پر غور کرنے کے لئے وزارتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

انکوائری کمیٹی نے اپنے اجلاس میں واقعے کی حقیقت سے متعلق رپورٹ مرتب کرنے کے لئے روزانہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزارتی ادارہ نے کیپٹن صفدر اعوان اور آئی جی پر شواہد اکٹھے کردیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، “ہوٹل سے لے کر تھانے تک کا سارا سی سی ٹی وی ریکارڈ اکٹھا کرلیا گیا ہے”۔

ذرائع نے مزید کہا کہ آئی جی کی سی سی ٹی وی فوٹیج رہائش گاہ اور راستے کے بھی اکٹھے کردیئے گئے ہیں۔ کمیٹی نے محمد صفدر اعوان کو کمیٹی اجلاس میں یا ویڈیو لنک کے ذریعے ذاتی طور پر طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آئی جی سندھ پولیس اور ایڈیشنل آئی جی۔ ممکن ہے کہ ایک یا دو دن میں تحقیقات کرنے والے ادارے کے ذریعہ طلب کیا جائے۔ تحقیقات کمیٹی اپنی رپورٹ مرتب کرکے وزیر اعلی کو پیش کرے گی۔

وزیر کی کمیٹی آئی جی کے ہوٹل کے کمرے اور رہائش گاہ کا بھی معائنہ کرے گی اور مزید یہ کہ تحقیقات میں مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر مریم نواز سے بھی رابطہ کریں گی۔

سندھ حکومت نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کے معاملات کی تحقیقات اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما صفدر اعوان کی گرفتاری کے لئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی ، وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور حکومت سندھ کے ترجمان مرتضی وہاب اور دو دیگر وزرا کمیٹی کا حصہ ہیں۔

کمیٹی کو معاملات کی تحقیقات مکمل کرنے اور وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کو رپورٹ پیش کرنے کا کام سونپ دیا گیا ہے۔ قائد اعظم کے مقبرے میں نعرے بلند کرنے پر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اعوان کو گرفتار کیا گیا اور بعد میں ضمانت منظور کرلی گئی۔

یہ مقدمہ مسلم لیگ ن کے نائب صدر مریم نواز ، ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر اعوان اور 200 دیگر افراد سمیت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف بریگیڈ پولیس اسٹیشن کراچی میں مزارعین پر نعرے بازی کرنے پر درج کیا گیا تھا۔