ریاست کو خوف ہے کہ جنوبی پختون خواہ پی ٹی ایم کا ساتھ نہ دے: منظور پختون

پختون خواہ وطن میں ریاست کے پوشیدہ اور کھلے عام مظالم اور عدم تحفظ کو ختم کرنے اور پورے افغان عوام کے لئے امن و سلامتی کا مطالبہ کرنے کے لئے جنوبی پختونخوا کے ضلع زوب شیرانی میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے آج ایک ریلی نکالی۔

حکومت نے پی ٹی ایم رہنما منظور احمد پشتون کی جلسے میں شرکت پر پابندی عائد کردی تھی ، لیکن توقع کی جارہی تھی کہ منظور جلسے سے ٹیلیفونک خطاب کرئینگے لیکن جب تقریر کے لئے اسٹیج پر اعلان ہوا تو عین اسی وقت ٹیلیفون اور انٹرنیٹ نیٹ ورک منقطع کردیا گیا۔

پی ٹی ایم رہنما منظور پشتون نے اس حوالے ٹویٹر پر لکھا:میں نے پی ٹی ایم ژوب جلسے کو ٹیلیفون پر خطاب کرنا تھا لیکن جیسے ہی میری تقریر کا اعلان ہوا اور خطاب شروع ہوا ، اسٹیٹ آف پاکستان ڈائریکٹ نے موبائل سروس معطل کردی۔

اس ریاست میں پشتونوں کے کوئی حقوق ہیں؟۔
ہماری نقل و حرکت بھی محدود ہے اور زوب کے لوگوں کو ٹیلیفونک تقریر کرنے کے دوران بھی انہوں نے موبائل نیٹ ورک بند کردیا اور میری باتیں درمیان ہی رہ گئ۔

معلوم ہوا ہے کہ ریاست کو خوف ہے کہ جنوبی پشتونخوا کے لوگ پی ٹی ایم میں شامل ہوجائنگے، لیکن انشاء اللہ ان کی خواہشات پوری نہیں ہوں گی اور تمام پشتون مل کر کھڑے ہوکر اپنا اتحاد برقرار رکھیں گے۔