رسم زباں بندی

وقاص احمد

فسطائی نظاموں کی ایک خصوصیت ہوتی ہے انکو تنقید برداشت نہیں ہوتی نہ صرف تنقید برداشت نہیں ہوتی بلکہ تنقید کے جتنے بھی ذرائع ہے انکو ایڑھی کے نیچے کچھلنے کے خواہش ہر وقت دل میں موجود رہتی ہیں۔ نہ صرف یہ خواہش دل میں موجود رہتی ہیں بلکہ یہ بھی ایک خواہش ہوتی ہے کہ اسکے متبادل ایک ایسا بیانیہ بنایا جائے جس کے اندر فسطائی نظام کی ہروقت تعریف و توصیف ہوتی رہے،اس کے تمام خدوخال کو بہترین خدوخال قرار دیا جاتا رہے اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈہ کرایا جاتا رہے کہ یہ ایک بہترین جمہوری نظام حکومت ہے۔ اگر پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھا جائے تو میڈیا پر لگنے والے یہ قدغنیں  کوئی نہیں ہے لیکن حالیہ ادوار کے دوران ہونے والے قدغن کی کوئی ثانی بھی نہیں ہے۔ کیا ہم نے اندھا ، گونگا اور بہرا پاکستان بنانا ہے۔ کیا ہم نے ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں پر کوئی اختلافی آوازیں نہ ہو- اگر اپ عمران خان کا بیانیہ اٹھا کر پڑھے جب وہ اپوزیشن میں تھے تو وہ کسی اور لیول پر بات کرتے تھے لیکن جب سے وزیراعظم بنے ہے تو اسکا رویا کسی اور طرف جارہا ہے۔وہ تمام الزامات جو ہم دنیا کے بدترین ڈکٹیٹر شپ کے اوپر لگاتے ہیں میڈیا کے حوالے سے وہ پاکستان کے اس نظام حکومت پر لاگو ہوتے ہیں۔ عمران خان کے اس مدینہ ماڈل ریاست میں میڈیا تاریخ کے بدترین سنسر شپ سے گزر رہے ہیں۔ پرانے پاکستان میں جب حکومتیں غلط راستے پر چلتی تھی انہیں سیدھا راہ دیکھانے کا فریضہ میڈیا سرانجام دیتے تھے۔اج ہم انہیں سنے سے اور دیکھنے سے محروم ہو چکے ہیں۔ طلعت حسین ہمیں ٹیلی ویژن پر نظر نہیں آتے، نصرت جاوید ، مطیع اللہ جان اور مرتضی سولنگی ٹی وی پر نظر نہیں آتے ۔ میڈیا ورکرز کے تنخواہیں بند کئے جارہے ہیں۔ میڈیا ہاوسز کو معاشی طور پر کمزور کیا جارہا ہے اور بین الاقوامی ادارے انکی بات کی تائید کرتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا ہاوسز کا معاشی قتل جاری ہیں۔ میڈیا مالکان کو دبایا جارہا ہے۔ملک کے سب سے بڑے میڈیا چینل جیو کے مالک میر شکیل الرحمن ایک 35 سالہ پرانے کیس میں گزشتہ کئی روز سے غیر قانونی طور پر پابند سلاسل ہے۔

یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوتا بلکہ اپ تو صحافیوں کو صرف خبر دینے کی بنیاد غدار ڈکلیئر کئے جاتے ہیں اور غداری کے پرچے کٹواتے ہیں۔ معاملہ ان چند صحافیوں کا نہیں ہے جو نکالے گئے یا ان چند میڈیا ہاوسز کا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ اس نظام کو ایک فسطائی نظام میں تبدیل کرنے کی جو کوشش ہے اسکو کامیاب کروانا ہے یا نہیں۔ کیا اس نظام کے اندر یہ جان موجود نہیں ہے کہ اپنی تمام تر جو ناکامیاں اور نقائص ہے انکی درستگی کا اہتمام ایک شیشے کو دیکھ کر کرے جو کہ میڈیا بناتا ہے۔ اس نظام کو ایسا ہی چلنا ہے یا اس نظام کو تبدیل کرنا ہے۔یہ معاملہ آئین کا ہے قانون کا ہے آذادی اظہار کا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 19 پر من و عن عمل کرنے کا ہے۔ ججوں جرنیلوں اور حکمرانوں نے اس آئین کی ہر شق پر عمل کرنے کا حلف اٹھارکھا ہے۔ میڈیا پر پابندی کے بعد کیا یہ سمجھا جائے کے حلف کے دوران آرٹیکل 19 کی قسم نہیں کھائی جاتی؟
یہ گونگا ،اندھا بہرا پاکستان جو ہے اس سے کسی فرد کا نقصان نہیں ہوگا۔ یہ چند صحافیوں کی نوکری ، چند صحافیوں کے کیریر یا چند میڈیا آرگنائزشن کی بات نہیں ہے۔ یہ اس ڈیبٹ کی بات ہے جس سے ہم کو محروم رکھنے کےلئے ایک منظم سازش کی جارہی ہیں۔

ایک طرف سے اپ نے بیڈ گورننس اور غلط معاشی پالیسیوں سے عوام کی زندگی اجیرن کی ہے اور کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے ہم اس سے بہتر کوئی دوا ہم تجویز نہیں کرسکتے اور دوسرے طرف اپ نے اپوزیشن کو مکمل دبایا ہےاور کیس کے اوپر کیس ان کے اوپر درج کیا جارہا ہے۔تیسری طرف پارلیمان کے جو ادارے ہے ان کو مکمل طور پر اپ نے نیوٹرلائز کر دیا ہے وہاں پر جو ڈیبیٹ ہوتی ہیں وہ مکمل بے سود اور بے فائدہ ہے کوئی نتجہ نہیں اخذ نہیں ہوسکتا۔ اب صرف ایک فورم باقی ہے میڈیا کا جس کے اوپر اپ قدغن لگا کر گلہ گھونٹنا چاہتے ہیں اس ملک کا ۔

اب جب گلہ گھونٹنے کا عمل شروع ہو گا تو اس کا ردعمل بھی ائے گا اور ردعمل اگر اپ نے جو مروجہ فورمز ہے ان کے ذریعے نہیں سنا مثلا کہ اپ نےٹی وی کی ڈیبیٹ کے اوپر نہیں سننا کیونکہ اپ کے کانوں کو اختلافی آوازیں اچھی نہیں لگتی ۔آرٹیکل کی صورت میں نہیں سننا ، ٹویٹر کی صورت میں نہیں سننا تو پھر لوگوں کا غصہ کئ اورشکل اختیار کریگا۔ یہ معاشرہ پٹ جائے گا اگر اپ نے یہ روئیے قائم رکھے۔ لہذا اس فسطائی نظام حکومت کو ختم کرنا ہوگا اور ملک میں حقیقی معنوں میں میڈیا کو آزادی دینا ہوگی۔ پاکستان کے اندر جو سیاسی جماعتیں ہیں اور جو ادارے ہیں ان کو خیال کرنا چاہیے کہ جب اپ عوام کی حقیقی رائے کا گلہ گھونٹتے ہیں۔ جب اپ مردہ نظام پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ردعمل کسی اور جگہ سے اتا ہے۔ پھر یہ ردعمل سڑکوں کے اوپر اتا ہے بازاروں میں ردعمل اتا ہے۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کے اندر جو نیچرل ردعمل کے جو ذرائع ہے انکے گلہ گھونٹ کر بند کئے جائیں اور پھر ایک طوفانی بدتمیزی برفا ہو جائے۔ اج صرف نعرے لگ رہے ہیں کل گاڑیوں کے اوپر پتھراؤ شروع ہو جائنگے۔ برسوں ایک دوسرے کے گھروں کے اوپر حملے شروع ہوجائینگے یہ معاملہ کہیں پر رکے گا ۔ ایک جائز فورم موجود ہے میڈیا کا اس کے اوپر سے قدغن اٹھانے کی ضرورت ہے لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔میڈیا پر قدغن لگا کر ہم نے جو پاکستان کا حال بنایا ہے وہ ہم سب کہ سامنے ہیں۔ اگر ان پابندیوں سے حالات ٹھیک ہوتی تو اج پاکستان دنیا کے بہترین ممالک میں سے ہوتا۔ہم نے معلومات کا گلہ گھونٹ کر ایک ایسا پاکستان بنایا ہے جس کے اندر افراتفری اپ کو ہر طرف نظر ائے گی۔ میں امید کرتا ہوں کہ حکومت اپنے دوسرے عادات کے ساتھ یہ عادت بھی بدلے گی۔