دی گریٹ گیم اور سر درد کے بدلے چالیس دن کے گناہ معاف

اختر خان

پیٹر ہاپکیرک کی کتاب “دی گریٹ گیم” ان برطانوی جاسوسوں کے مہمات کے بارے میں ہے. جو داڑھی رکھ کر اور خود کو مسلمان حکیم یا مولوی بنا کر افغانستان، وسطی ایشیا، تبت اور منگولیا میں پھرتے تھے. اور ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی غرض سے مقامی لوگوں کے بارے معلومات اکھٹے کرکے برطانیہ بھیجتے تھے. انہی جاسوسوں میں ایک کیپٹن کونلی تھے جنہیں ضلع خیبر بھیجا گیا تھا. کیپٹن کونلی داڑھی رکھ کر ایک مسلمان حکیم اور صوفی کا لبادہ اوڑھے تھے. یاد رہے یہ وہی کیپٹن کونلی ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ گریٹ گیم کی اصطلاح استعمال کی. یہ 1828-29 میں ضلع خیبر میں رہے. اسی دہائی میں میجر ایبٹ اج کے ایبٹ آباد میں مولوی کے روپ میں امام مسجد کا روپ دھار بیٹھے تھے۔

پیٹر ہاپکیرک ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک دن ضلع خیبر میں ہیضہ کی وبا پھیلی تھی. چونکہ مقامی آفریدی اور شینواری لوگ کیپٹن کونلی کو حکیم اور صوفی سمجھ بیٹھے تھے. تو ہیضہ سے متاثرہ افریدی اور شینواری جوق در جوق کیپٹن کونلی کے پاس علاج کی غرض سے اتے تھے. لیکن کیپٹن کونلی جو بھی دوا دیتے تھے مریض ٹھیک نہ ہوتے تھے. مقامی آفریدی اور شینواری متجسس ہوئے کہ حکیم صاحب کی دوائی تو کام نہیں کر رہی. یعنی کیپٹن کونلی کی شہرت اور حیثیت مقامی آفریدی اور شینواری قبائل میں خطرے میں پڑ گئی. کیپٹن کونلی کو شدید فکر لاحق ہوئی تو انہوں نے اس ساری صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک ایسی چال چلی کہ مقامی آفریدی اور شینواری قبائل میں اس کی شہرت اور حیثیت کئی گنا بڑھ گئی. کیپٹن کونلی کے پاس ہیضہ سے متاثرہ آفریدی اور شینواری قبائل کا جو بھی بندہ اتا اس کو کہہ دیتا تھا کہ احادیث میں اس بات کا زکر ہے کہ جب اپ کے سر میں ایک دفعہ بھی درد ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اپ کے چالیس دن کے گناہ معاف کر لیتا ہے اس لیے اگر میری دی ہوئی دوائی سے تم لوگوں کو شفا نہیں ملتی تو بےفکر رہیں اور یوں سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تم لوگوں کے گناہ اس دنیا میں معاف کروا رہے ہیں. اور اس کا صلہ تم لوگوں کے اخروی درجات کی بلندی کا سبب بنے گا. آفریدی اور شینواری قبائل جب کیپٹن کونلی کی یہ بات سن لیتے تھے تو اپس میں کہہ دیتے تھے کہ کیا بات ہے کتنا عظیم صوفی حکیم اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس بھیجا ہے. یوں کیپٹن کونلی ارام سے آفریدی اور شینواری قبائل کے بارے میں معلومات اکھٹے کرتے رہے. جو کہ بعد میں ان علاقوں پر انگریز کے قبضے کے لئے مفید ثابت ہوئیں۔

اپنی جہل سے مجبور پٹھانڑ جسے وہ غیرت کا نام دیتا ہے صدیوں سے کنوئیں کا مینڈک رہا ہے لیکن چونکہ وہ کتاب پڑھنے سے الٹیاں کرتا ہے تو اس لئے وہ اپنی تاریکی اور جہل کی گہرائیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے. اور اس کے اردگرد کی دنیا پٹھانڑ کے اس تاریخی سیاسی علمی جہل سے فائدہ اٹھا رہے ہیں. ہر وہ پٹھانڑ جس نے پیٹر ہاپکیرک کی کتاب دی گریٹ گیم نہیں پڑھی، سمجھو کہ وہ بھی ایک کنویں کا مینڈک ہے اور کسی بھی وقت کیپٹن کونلی جیسا کوئی بندہ برازیل میں خلافت اور آسٹریلیا میں پاکستان جیسا اسلامی جمہوری نظام لانے یا منگولیا میں پشتونستان اور لوئی افغانستان بنانے کے لئے اس پٹھانڑ کو استعمال کر سکتا ہے۔

فیس بک کے ساتھ اختر خان  تک پہنچیں