خیبر پختونخوا کے فنکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نہیں پوچھ رہی، اجتماعی خودکشی کرنے پر مجبور ہیں

پشتون فنکاروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی وجہ سے اور اب حکومت کی توجہ نہ ہونے کے سبب ان کے گھروں میں قحط نے ڈیرے ڈال دیے ہیں جس پر وہ اجتماعی خود کشی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

بدھ کے روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طارق جمال ، جاوید بابر اور آرٹسٹ ایکشن موومنٹ کے دیگر رہنماؤں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ثقافتی سرگرمیوں کا سلسلہ رک گیا ہے اور فنکار روزی کمانے سے قاصر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران اور اس کے بعد حکومت نے فنکاروں کو ایک روپیہ مدد نہیں کی اور موجودہ حکومت نے سابقہ ​​صوبائی حکومت کی طرف سے مقرر بے روزگار فنکاروں کو دیئے جانے والے ماہانہ وظیفہ بھی روک دیا ہے۔

فنکاروں کا کہنا تھا کہ صوبہ میں ثقافتی سرگرمیوں کا واحد مرکز نشتر ہال بھی ثقافتی محکمے نے اپنے قبضہ میں لیا ہے اور وہ فنکاروں کو ہال میں ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعہ معاش کمانے کی اجازت نہیں دے رہے۔

ان کا الزام ہے کہ ثقافتی محکمے نے فن کے نام پر عوامی خزانے سے جو رقم خرچ کی ہے وہ کمیشنوں میں جاتی ہے اور اس سے فنکاروں یا فن کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر مقامی پروگراموں کو نشر کی جائے تاکہ صوبے کے فنکاروں کو کام کرنے کے مواقع فراہم ہوں۔