حقیقی اور ریاستی تاریخ کی بہترین مثال

تاریخ کے طالبِ علم جانتے ہیں کہ یونانی مورخ ہیرودوت سے لے کر اسلامی تاریخ اور مورخین کے بارے میں علما کے اختلاف تک اور امریکہ کے مطالعہ پاکستان سے لے کر ہاورڈ زین کی لکھی گئی تاریخ تک حقیقی اور ریاستی تاریخ میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ اس لئے پرانی تاریخ کو چھوڑ کر صرف پاکستان کی تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو اندازہ ہوجائے گا کہ پنجاب سے شکوہ کرنے والے محمود خان اچکزئی کی بات میں کتنی سچائی ہے اور کیوں وہ ہر وقت خبروں کی زینت بنتا ہے۔

چند سال قبل ایک کانفرنس میں مطالعہ پاکستان کے ایک معروف پروفیسر سے چائے کے سیشن میں ایک غیر رسمی گفتگو میں پوچھا۔ پروفیسر صاحب لوگ کہتے ہیں کہ مطالعہ پاکستان میں جھوٹی تاریخ پڑھائی جاتی ہے۔ کیا یہ درست ہے۔ پروفیسر نے مسکراکر کہا۔ ہاں جھوٹ تو شامل ہے۔ میں نے کہا پروفیسر صاحب برائے مہربانی پرسنٹیج بھی بتا دیجئے۔اس نے کہا کسی آرٹیکل میں میرا نام تو نہیں لکھوگے؟ میں نے کہا نہیں آف دی ریکارڈ پوچھ رہا ہوں، آپ کا نام نہین لوں گا البتہ صحافی ہوں اور تحقیق کا طالبِ علم ہوں اور آپ نے ساری زندگی یہی ممضمون پڑھایا اس لئے چاہتا ہوں کہ ایک ماہرِ مضمون کی رائے لے لوں۔ اس نے کہا پچھتر فیصد۔

مطالعہ پاکستان کے پروفیسر کے منہ سے پچھتر فیصد سن کر مجھے خود بھی حیرت ہوئی۔ میں نے کہا پروفیسر جب دودھ والا دودھ میں بھی ملاوٹ کرتا ہے تو ایک خاص تناسب سے کرتا ہے۔ کیا پچیس فیصد دودھ اور پچھتر فیصد پانی دودھ کہلائے گا یا پانی؟ اس نے ہنس کر کہا آپ جو بھی کہہ لیں میں تو دودھ ہی کہوں گا، کیونکہ میں نے بیچنا ہے اور میری روزی روٹی کا سوال ہے۔ میں نے پروفیسر کو کہا کہ آپ کے خیال میں کیا یہ علمی خیانت نہیں کہ ہم اپنی نوجوان نسلوں کو علمی درسگاہوں میں جھوٹ پڑھا رہے ہیں۔ پروفیسر نے کہا بالکل ہے، لیکن نوکری بھی تو کرنی ہے۔

محمود خان اچکزئی کی بات کو اگر آپ سیاق و سباق میں دیکھ لیں تو اس کا شکوہ کسی حد تک درست بھی ہے، لیکن ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انگریزوں کے کتے نہلانے والوں میں پنجابیوں سمیت پشتونوں کے بڑے نامی گرامی لوگ بھی شامل تھے اور آج بھی پشتونخوا کے خوانین، ملکان اور جاگیرداروں کی جائیدادیں اور کرائے کے مولیوں کا کردار ان کے ماضی اور حال کا فسانہ سنانے کے لئے کافی ہیں۔

جنگِ آزادی ہندوستان میں مسلمانوں، ہندووں، سکھوں، عیسائیوں، مولویوں، قوم پرستوں، سوشلسٹوں، مردوں اور خواتین سمیت ہر مذہب، مسلک، قومیت، نظریے اور مکتبہ فکر کے لوگوں نے حصہ لیا اور انگریزوں کے کتے نہلانے اور بوٹ پالش کرنے والوں میں بھی تقریبا ہر طبقے کے لوگ شامل تھے۔ اس لئے یہ بحث بہت طویل ہے کہ پنجاب کے کتنے سپوتوں نے جنگِ آزادی میں کردار ادا کیا اور پشتونوں میں کتنے لوگ حریت پسند تھے۔ تاہم محمود خان اچکزئی کی بات کو جس طرح ہم سمجھتے ہیں اور جس طرح پروپیگنڈے والے سمجھتے ہیں اس میں بہت زیادہ فرق ہے اور یہ اسی ریاستی پروپیگنڈے کا تسلسل ہے جو مطالعہ پاکستان والوں نے شروع کیا، آئی ایس پی آر والوں نے اسے پروان چرھایا اور اے آر وائی والوں نے اس کی ہیڈلائنز بنائیں:

۱۔ مطالعہ پاکستان میں یہ تو لکھا ہے کہ مسلم لیگ نے پاکستان حاصل کیا لیکن یہ نہیں لکھا کہ مسلم لیگ نے مذہب کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم (اور بعض مورخین کے مطابق) انگریزوں ہی کے تقسیمِ ہند کے منصوبے کو آگے بڑھایا، لیکن یہ کہیں نہیں لکھا ہوگا کہ برصغیر پاک و ہند کی آزادی میں دیگر طبقات کی طرح پشتونوں کے بھی گھر بار اجڑ گئے تھے اگرچہ ان میں اکثر تقسیمِ ہند کے خلاف تھے۔

۲۔ مطالعہ پاکستان میں یہ تو لکھا ہے کہ مسلم لیگ نے آزادی کی خاطر قربانیاں دیں، لیکن ان قربانیوں کی تفصیلات نہیں لکھیں۔ جن میں ڈھاکہ کے نوابوں سے لے کر محمد علی جناح اور اقبال لاہوری تک کسی ایک کو بھی انگریز نے ایک دن یا ایک مہینے کے لئے جیل میں ڈالا ہو، کسی ایک رہنما کو پھانسی چڑھایا ہو، کسی ایک جلسے پر فائرنگ کی ہو۔

۳۔ مطالعہ پاکستان میں تو کہیں نہیں لکھا لیکن آزاد تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انگریزوں کے کتے نہلانے والوں کے بوٹ پالشی چینل صابر شاکروں، چاوید چودھریوں اور وٹس ایپ جرنلزم والے صحافی، کٹھ پتلی کے یوتھیا اور سوشل میڈیا کے پیڈ ٹرولز محمود خان کی کل والی تقریر سے بہت سال پہلے ہی اپنے میڈیا اور سوشل میڈیا پر اچکزئی کو غدار، افغانستان کا ایجنٹ ، ہندوستان کا ایجنٹ اور ملک دشمن، یہاں تک کہ گستاخِ رسول قرار دے چکے ہیں، لیکن ان میں سے کسی نے آپ کو یہ نہیں بتایا ہوگا کہ اسی غدار محمود خان کے والد کو انگریزوں نے پچیس سال تک جیلوں میں رکھا اور دس سال تک پاکستان کی جیلوں میں رکھا اور اس نے انگریزوں سمیت ایوب خان یا کسی اور جرنیل کی بھینس نہیں چرائی تھی۔

۴۔ مطالعہ پاکستان میں یہ بھی نہیں لکھا اور نا ہی آپ کو یہ پنجابی میڈیا پر کوئی بتائے گا کہ پشتونوں کے ایک اور ملنگ بابا نے تیس سال سے زاید عرصہ انگریزوں اور پاکستانی جیلوں میں گزارا تھا اور اس کا نام بھی کسی پانامہ میں نہیں آیا تھا اور نہ ہی اس نے کرپشن کی تھی، لیکن اپنی قوم کی اصلاح کے لئے ایک تحریک شروع کی تھی اور انگریزوں سے سر کا خطاب نہیں پایا تھا، مذہب کے نام پر سیاست نہیں کی تھی، ہندوستان کی تقسیم کا مخالف تھا اور امن اور بھائی چارے کے ساتھ رہنے کا درس دیتا تھا، کیونکہ اسے نظر آرہا تھا کہ بعد میں بنگالی کتے ہوں گے، کشمیر کے لئے ایک ٹانگ پر کھڑا ہونا پڑے گا، بلوچ غدار ہوں گے اور پشتون افغانستان کے ایجنٹ ہوں گے۔ اس نے انگریز کے خلاف کوئی ہتھیار بھی نہیں اٹھایا تھا اور عدمِ تشدد کے فلسفے پر عمل پیرا ہوکر پرامن مزاحمت کرتا تھا لیکن انگریز اسقدر بے وقوف تھا کہ وہ مسلم لیگ کے جلسے جلوسوں کو چھوڑ کر خدائی خدمتگاروں کو کبھی قصہ خوانی تو کبھی ٹکر میں بھوں دیتے تھے اور اس کے بعد مسلم لیگیوں نے بھی ان کے آقاوں کے نقشِ قدم پر چل کر انہیں بابڑہ میں بھون ڈالا اور ملنگ کو پاکستان بننے کے بعد بھی جیل میں رکھا۔

۵۔ مطالعہ پاکستان اور پنجابی میڈیا پر تو یہ نہیں بتایا جاتا لیکن جناح کے مسلم لیگ سے لے کر موجودہ دور کے نواز اور شیخ رشید کے مسلم لیگ تک اگر سیاسی لیڈروں کے قتل، گرفتاریوں، جیلوں، قید و بند کی صعوبتوں اور ان کو غدار قرار دینے کی پروفائلنگ کی فہرست مرتب کی جائے تو اس میں آپ کو نوے فیصد پشتون، بلوچ اور سندھی نظر آئیں گے جب پنجاب کا کوئی ایک بھی عظیم لیڈر آج تک نہ جمہوریت کے نام پر ماراگیا، نہ عوامی بالادستی کے لئے، نہ ہی اپنی قوم کے حق کے لئے لڑتے ہوئے مارا گیا یا جیل میں رکھا گیا۔

تاریخ اور مورخ چاہے ادیب ہو، پروفیسر ہو، استاد ہو، صحافی ہو یا کوئی اور، جب کوئی ملک اور معاشرہ آزاد ہوتا ہے تو وہاں سچ لکھ سکتا ہے، پاکستان جیسے ممالک اور ہمارے معاشرے زیادہ سچ سننے کے متحمل نہیں ہوسکتے اس لئے حمود الرحمان کمیشن سے لے کر، ایبٹ آباد کمیشن تک، اور آرمی پبلک سکول سے لے کر منظور پشتون کے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیئشن کمیشن تک نہ کوئی قاتل ملا، نہ ہی غدار، نہ اور نہ ہی کسی کو سزا ہوئی۔

تاریخ کو گولی ماریں، پنجابی اور پشتون کی بحث بھی چھوڑ دیجئے اپنے حال پر نظر دوڑائیے تو اے آر وائی اور صابر شاکر محب وطن ہیں اور جیو اور حامد میر غدار قرار دیے جاتے ہیں، صحافیوں کی مونچھیں کاٹی جاتی ہیں، سر کے بال منڈوائے جاتے ہیں، زبردستی شمالی علاقہ جات کی سیر کو بھیجے جاتے ہیں، کتاب کے سر ورق پر کارٹوں چھاپنے پر ان کی کتابیں صبط کی جاتی ہیں، عالمزیب محسود خود کو ملزم کی بجائے مدعی ثابت کرنے کی کوشش کرے تو اس دکاندار کی دکان کو بھی ڈی سی تالا لگاتا ہے جو کتابیں رٹ کر سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے افسر بنتا ہے، یہاں تینتیس ارب ڈالر جرنیل اور بیوروکریٹ ہڑپ کرجاتے ہیں، لیکن بے گھر پشتون ہوتے ہیں، پرائی جنگوں میں صفِ اول کا اتحادی ریاست بنتی ہے جبکہ میڈیا میں ایسا تاثر بنایا جاتا ہے جیسے ائیر چیف مارشل محسن داوڑ ہی ہو اور ڈرون حملوں کی اجازت اس نے دی ہو، پنجابی کرنیل کیلیفورنیا میں بیٹھ کر اسامہ بن لادن کے اوپر لیے گئے پیسوں سے موج مستیاں کرتا ہے لیکن شکیل آفریدی اسی جرم میں جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم امریکہ جاکر فخر سے کہتا ہے کہ اسامہ ہماری مدد سے ہی مارا گیا لیکن واپس آکر یوتھیوں کے سامنے اسے شہید قرار دیتا ہے۔ محمود خان نے کچھ زیادہ نہیں کہا، اس نے گلہ کیا اور معافی بھی مانگی، لیکن تاریخ کو گولی ماروِ، ذرا پتہ کرو کہ منظور پشتون کی غداری کہاں تک پہنچی، تین دفعہ کٹھ پتلی بننے والا نواز شریف تھوڑا بہت اختیار مانگتے ہوئے کیوں بغاوت پر اتر آیا ہے، ذرا وزیراعظم سے پتہ کراو کہ وہ کن لوگوں سے ملتا رہتا ہے، کوئی شبلی فراز سے پوچھے کہ مولانا اور پی ڈی ایم کے خلاف یہودی لابی ہے تو اس کے خلاف آپ نے کونسی کاروائی کی، کوئی شہریار افریدی سے پوچھ لے کہ جان اللہ کو دینی ہے تو وہ فوٹیج تو دکھا دو اگر ویڈیو نہیں ہے۔

پاکستان کی سیاست قومیتوں کی علیحدہ جدوجہد سے نکل کر مختلف اقوام کا متفقہ آئینی اور جمہوری پاکستان کے لئے جدوجہد پر مرتکز ہو رہی ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو اس میں ملک اور اس میں رہنے والی ساری اقوام کی بقا ہے، ورنہ یحیٰ خان، ایوب خان، ضیا الحق ، ملک ریاض، باجوہ، پاپا جونز اور آصف غفور اور ان کے کٹھ پتلی ملک چلا سکتے تو سیاست، عدلیہ، صحافت، معیشت اور جمہوریت کا یہ حال نہ ہوتا. محمود خان، کا اردو کی بے حرمتی، لاہوریوں کو طعنہ یا شکوہ، کیپٹن صفدر کی مزار قائد کی بے حرمتی آئی جی کا اغوا اور کورونا وغیرہ سب آئینی اور جمہوری جدوجہد سے توجہ ہٹانے اور ڈیبیٹ سے رخ موڑنے کے ہتھکنڈے ہیں، ورنہ نواز شریف کی لاہور جلسے میں تقریر پرانی تقریریوں کے مقابلے زیادہ مدلل اور زیادہ پر اثر تھی لیکن میڈیا کا فوکس محمود خان رہنا ضروری ہے۔

نوٹ: زیادہ تر مورخین نے تاریخ بالکل اسی طرح مرتب کی ہے جس طرح اے آر وائی اور روزنامہ امت صحافت کرتے ہیں

 

ضیا اللہ ہمدرد