جنوبی وزیرستان: سراروعہ لینڈ ماین دھماکے میں ایک 13 سالہ بچہ زخمی

ایک اور 13 سالہ لڑکا جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروعہ میں ماین دھماکے کی وجہ سے زخمی ہوگیا جسکو علاج کے لئے ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک فوجی اسپتال لے جایا گیا۔

جنوبی وزیرستان پولیس نے ماین دھماکے کی تصدیق کی ہے جس میں ایک 13 سالہ لڑکا زخمی ہوگیا تھا اور اسے اسپتال لے جایا گیا تھا، لیکن پولیس نے لڑکے کی حالت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

جنوبی وزیرستان کے پولیس چیف [ڈی پی او] شوکت علی نے بتایا ، یہ واقعہ جمعرات کی سہ پہر کو پیش آیا تھا۔

علاقے کے رہائشی رحمت شاہ نے بتایا کی ماین بچے کے گھر کے قریب پھٹا تھا۔

پشتون تحفظ موومنٹ [پی ٹی ایم] کے ایک کارکن عالم زیب مسید نے بتایا کہ انہوں نے وزیرستان میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں کی تعداد اکٹھا کی ہے ، یہ تازہ ترین دھماکہ 160 واقعہ ہیں جن میں 250 خواتین اور بچے معذور ہوئے ہیں۔

Read this also:How dangerous are landmines in the tribal areas?

عالمزیب مسید کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کے ابتدائی مطالبات میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا مطالبہ بھی شامل ہے اور اب بھی اسے صاف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ خطے میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

پولیس چیف شوکت علی نے اعتراف کیا کہ اس علاقے میں گذشتہ ایک ہفتے میں کئی ماین دھماکے ہوئے جن میں نہ صرف عام شہری بلکہ فوجیوں بھی نشانہ بنے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں لینڈ ماینز صفائی کا کام جاری ہے اور جہاں یہ دھماکہ ہوتے ہیں وہاں فوج اور نیم فوجی دستے اس علاقے میں بارودی سرنگوں کو علاقے سے صاف کرتے ہے۔