جب تک خواتین اپنے وطن کے مسائل، وسائل اور تاریخ سے ناواقف رہینگی تب تک قومی ترقی ممکن نہیں: ثناء اعجاز

پشتون ویمن موومنٹ (واک دا خزو) نے عظیم پشتون سیاسی کارکن ، عبد الصمد خان اچکزئی(خان شہید) کی 47 ویں یوم وفات پر پشاور پریس کلب میں ایک اجتماع کا انعقاد کیا۔ انہوں نے خان شہید کی زندگی اور جدوجہد کے ساتھ ساتھ پشتونوں کو درپیش مسائل کے بارے میں بھی بات کی۔

یاد رہے کہ عبد الصمد خان اچکزئی 2 دسمبر 1973 کو جمال الدین افغانی روڈ پر دستی بم حملے میں رات کے وقت شہید ہوگئے تھے ، جب وہ بلوچستان کے صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے۔ ان کو آبائی گاؤں عنایت اللہ کاریز گلستان میں سپرد خاک کردیا گیاتھا۔

ثناء اعجاز جو واک تحریک کی کارکن ہے نے بتایا کہ ہمیں چاہیے کے بحیثیت ایک پشتون قوم کے ہم اپنے قومی رہنماوں کو یاد رکھیں اور اپنی تاریخ سے واقف ہو لیکن بدقسمتی سے ہماری ملکی میڈیا اور نصاب میں پشتون ہیروز کے لیے کوئی جگہ نہیں بلکہ ان کو غدار قرار دیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ہمارے مغاشرے کے خواتین،ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اپنے قومی رہنماوں اور اپنے وطن کے مسائل اور وسائل کے بارے میں نہیں جان پائیں گے تب تک قومی ترقی اور مکمل آزادی ممکن نہیں-

تحریک کی ایک اور رکن قندی صافی نے تقریب سے حطاب میں کہا کہ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم پڑھنے لکھنے سے دور ہے اور خاص طور سے اپنے پشتون تاریخ سے ناواقف ہے کیونکہ ایک تو ہمارے قومی تاریخ کے بارے میں بہت کم لکھا گیا ہے اور دوسرا یہ کہ جو لکھا گیا ہے ہمارے نوجوان اسے پڑھتے ہی نہیں۔

پاکستان کیلے افغانستان کے ثقافتی اتغاشی خصرت والی ہوتک نے بھی تقریب میں شرکت کی ان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ خان شہید کی پوری زندگی پختونحوا وطن کی خدمت میں گزری تھی اور اس جدوجہد میں انہوں نے اپنی نصف زندگی قید قید میں گزاری اور شہید بھی اسی بنا پر ہوئے۔

خان شہید ایک مصنف اور صحافی

خان عبدالصمد خان اچکزئی خوشحال خان خٹک کے بعد ایک پشتون تھے جن کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں۔ وہ پشتونوں کی معلوم تاریخ میں ایک سیاستدان تھے جنہیں پشتو اسکرپٹ کے موجدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

خطاطی ایجاد کرنے والوں میں مسٹر اچکزئی سے پہلے صرف چار شخصیات کو مستند سمجھا جاتا ہے۔ ان میں محمود غزنوی کے دور میں حسن مومندی ، پھر بایزید روشن ، اخوند دروازہ ، اور خوشحال خان خٹک شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عبد الصمد خان اچکزئی ، ریاست پاکستان کے پہلے سیاسی قیدی ۱۹۷۳-۱۹۰۷

صمد خان اچکزئی نے اپنی سوانح عمری “زما زوند او زوندون” ایوب خان کی جیل میں لکھی۔ اس سیرت کا ترجمہ یوکرائنی میں کیا گیا ہے۔

مشال ریڈیو کو لکھے گئے خط میں ، قاسم خان مندوخیل لکھتے ہیں:”اس کتاب کا پشتو سے یوکرائنی زبان میں ترجمہ ڈاکٹر غلام سرور نے اسلام آباد میں یوکرائن کے سفارت خانے ، آئیویشکو کے سفارت کار کی مدد سے کیا ہے۔

جب 1938 میں برطانوی پریس ایکٹ کے تحت برطانوی بلوچستان میں پریس کو سرکاری طور پر آزاد کرایا گیا تو ، عبدالصمد خان نے پشتو اور اردو میں استقلال کے نام سے ایک اخبار بھی شائع کیا۔

انہوں نے اخبار کے لئے بھی لکھا ۔1950 میں ، پاکستانی حکومت نے استقلال کو بند کردیا اور عبد الصمد خان اچکزئی کو قید کردیا گیا۔

معروف پشتون مصنف خیر محمد عارف نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ خان شاہد کی صحافت صرف استقلال تک محدود نہیں تھی۔

مسٹر اچکزئی نے 1953 میں ایک پشتو میگزین بھی شروع کیا تھا۔ انہوں نے “پیعام جدید” اور “گلستان” رسالے بھی شائع کیے