تور باز بامقابلہ ارطغل

فیس بک پوسٹ خالد للخانی یوسفزئی

تورباز : سنجے دت بابا نے ثابت کردیا ہے کہ وہ افغان تھا اور ہے دراصل وہ ایک پشتون کا بچہ ہے. وہ ہندوستان میں رہہ کر اس نے سیکھا ہے. کہ جمہوریت ترقی معیشت خوشحالی ہی اصل زندگی ہے. بندوق کے زور پر انسانوں کو زیراثر کرنا. انسانوں کو بموں سے اڑانا اپنی ملک اپنے عمارتوں کو بموں سے اڑانا وحشت درندگی ہے۔

اپنے بچوں کو بندوق خودکش جیکٹ دینا بربریت ہے. اپنے بچوں کو کھیلنے کے کھلونے دیں. انہیں قلم دیں. انہیں نیگیٹو سوچ سے دور رکھیں. انہیں محبت سکھائیں. تب آپ ایک عظیم قوم عظیم ملک عظیم لوگ بن سکتے ہیں. سنجے دت بابا نے اپنا حق ادا کیا ہے. لیکن 7 کروڑ پشتونوں میں ایسا کوئی اداکار ڈایریکٹر پروڈیوسر لکھاری نہیں ہے جو اس طرح کے موضوعات پر لکھیں. فلمیں ڈرامے بنا دیں۔

دوسری طرف ترکی نے ارطغل نامی افسانوی کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے. ترکش اداکاروں نے بہترین اداکاری کی ہے. اور دنیا کو اپنی تاریخ افسانوی کرداروں سمیت جھوٹی کہانیوں سمیت بڑھا چھڑا کر پیش کیا ہے. جسمی تشدد نفرت ہے. ترکش نے اپنی تاریخ کو زندہ کیا لیکن پاکستانیو نے ان سے تشدد نفرت سیکھ لیا. حتیٰ کہ ترکی کے فحش ترین اداکار جو ارتغل کا کردار ادا کرچکا ہے. کل اسے بادشاہی مسجد میں ایک مولوی نے رحمت اللہ علیہ کہہ دیا تھا. یہ ہمارے ملک کے لوگوں کا معیار ہے. دراصل پنجاب کیساتھ کوئی تاریخ نہیں ہے. ساری تاریخ افغانوں کی ہے. اور بعد میں مغل اور انگریزوں کی ہے. اور یہ لوگ انکے دائیں بازوں تھے. اب وہ ترکی کے تاریخ پر خیال غلط کررہے ہیں۔

لیکن ہمارے لیے سنجے دت اچھا ہے. جس نے اپنے فلم میں امن ترقی خوشحالی کا بہترین پیغام افغانوں کے لئے دیا ہے.