بی بی سی پشتو 24 گھنٹوں میں 2،000 سے زیادہ مداحوں کو کھو دیا، آخر کیوں؟

بی بی سی پشتو ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے فیس بک پیج نے صرف ایک متنازعہ رپورٹ کی اشاعت کے سبب پچھلے 24 گھنٹوں میں تقریبا 21000 مداحوں کو کھو دیا ہے۔

جمعہ کے روز 4 مئی شام ساڑھے 3 بجے سے ہفتے کے روز 5 مئی کو بی بی سی پشتو ریڈیو اور ٹی وی فیس بک پیج پر تقریبا 2،000 شائقین نے اپنی پسندیں واپس لے لیں۔

بی بی سی کی جانب سے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے ایک اقتباس کو شائع کرنے کے تقریبا تین دن سے افغان فیس بک صارفین کے طرف سے بی بی سی پشتو کے خلاف رد عمل عروج پر ہے یاد رہے کہ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ موجودہ حالات میں تباہ ہونے کے لئے افغانستان کا موجودہ نظام چھ ماہ تک جاری رہے گا۔

ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس کمپین میں کتنے صارفین اس پیج کو چھوڑ چکے ہیں۔لیکن ہزارو فالورز بی بی سی پیج کو خیرباد کہہ چکے ہے۔

نیز بی بی سی کے کچھ پشتو مداحوں نے الزام لگایا ہے کہ سروس نے من مانی پشتو زبان میں نئے الفاظ شامل کیے ، اس سے متعلقہ خط (د) اور (پی) کو ہٹا کر زبان کو ادھورا کردیا۔

بی بی سی کی پشتو کے خلاف مہم میں شریک ، سرور ستانکزئی نے ۳جون کو اپنے فیس بک پیج پر لکھا ، “بی بی سی ایسی خبریں پھیلارہی ہے جو افغانستان کی تباہی کی راہ ہموار کررہی ہے۔ براہ کرم آج اپنے ملک کے لئے آپ سب اس کو فالو کرنا چھوڑ دے “۔

سلیم یعقوبی نے اس کی وجہ کا ذکر نہیں کیا لیکن لکھا ، “مجھ پر یقین کیجے. ، میں نے بی بی سی کو کچھ عرصہ پہلے بلاک کر لیا تھا۔ فیس بک کے دوستوں نے آج ان کے خلاف مہم شروع کردی ہے۔ یقینی بنائیں کہ اس مہم میں حصہ لیں اور اس ہیش ٹیگ کا استعمال کریں۔

#UnLikeBBC.