بچوں کے نفسیات (محبوب جبران بونیری)آج کی بہترین فیس بک پوسٹ

محبوب جبران بونیری

بچہ جوں جوں بڑا ہوتا چلا جاتا ہے،سزاؤں اور دباؤ میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
گھر میں والدین یہ کہہ کر گلے لگانا چھوڑ دیتے ہیں کہ ”اب تم بڑے ہوگئے ہو بچوں والی حرکتیں بند کرو”۔
سکول میں استاد کے ”ڈنڈے” منتظر ہوتے ہیں کہ ”تم شیطان ہو، ہر وقت شرارتیں کرتے ہو”۔

یعنی گلے لگنے کا حق بھی زیادہ تر گھرانوں میں پانچ سے آٹھ سال تک محدود ہوجاتا ہےاور شرارتوں کا حق تو پہلے ہی دن سکول چھین لیتا ہے۔

اب بچہ اکیلا ہوجاتا ہے۔۔۔ گلے لگا کر بات سننے والا کوئی نہیں۔۔۔ بات بات پر ماتھا چومنے والا کوئی نہیں۔۔۔ اپنا سب سے اچھا بیٹا یا بیٹی کہنے والا کوئی نہیں۔۔۔ تم ہمت کرو باپ/ماں ساتھ ہے کہنے والا کوئی نہیں۔۔۔
دوسری جانب
سکول میں ہنسنے پر پابندی۔۔۔ قہقہہ تو ویسے ہی گلا دبوا دے گا۔۔۔ سوال زیادہ کرتے ہو سمجھ کچھ نہیں آتی۔۔۔ نالائق نالائق نالائق ہو تم۔۔۔ زیادہ بولا نہ کرو۔

اب جو بچہ بڑا ہوتا ہے، آپ اس کے جذبات سمجھ ہی نہیں سکتے وہ بچپن سے کچھ کہنا چاہتا تھا، وہ بچپن سے ہر بات چھپاتا رہا، اسے بولنے آپ نے نہیں دیا، اسے گلے آپ نے نہیں لگایا،اس کی تعریف آپ نے نہیں کی۔