بنگالی میڈم شوبہ: مجھے ۱۳ ہزار پاکستانی روپے میں ایک افغانی کے ہاتھ فروخت کیا گیا تھا

بنگلہ دیش کی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ وہ 40 سال قبل پاکستان کے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک افغان کو 13000 روپے میں فروخت ہوئی تھی ، اور وہ تب سے اپنے کنبے اور بچوں سے علیحدہ ہوگئی ہے۔

شوبہ بی بی بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی رہائشی ہیں ، لیکن وہ گذشتہ 40 سالوں سے افغانستان کے صوبہ غزنی میں ایک شخص کے ساتھ ہے جس نے اسے اپنے لئےخریدا تھا اور اب وہ اس کے ساتھ رہ رہی ہیں۔

شوبہ نے بتایا کہ اس کے بنگالی شوہر سے ان کے دو بیٹے ، ذاکر حسین اور مجیب الرحمن تھے۔

اس نے بتایا کہ اس کی شادی کے کچھ سال بعد اس کے بنگالی شوہر چل بسے اور اس کے بعد اس نے اپنے شوہر کے لواحقین سے اس زمین کی ملکیت کو لے کر تنازعہ شروع کردیا۔

انہوں نے کہا ، “جب تنازعہ شروع ہوا تو دیور نے مجھے معاملہ بند کرنے کا کہا اور وارننگ دی کہ میرے ساتھ ایسا کچھ کرے گا جو ناقابل فراموش ہوگا۔

شوبہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک دن بہت بیمار ہوگئی اور اپنی دیور کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس گئی ، جس کے بعد اس نے پھر کبھی اپنے بچے یا اپنے ملک کو نہیں دیکھا۔

انہوں نے کہا ، “جب میں ڈاکٹر کے پاس گئی تو میرے دیور نے مجھے کچھ دوائیں دیں۔ جب میں بیدار ہوئی تو میں پاکستان کے ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک قلعے میں دوسری خواتین کے ساتھ تھی۔

شوبہ کے مطابق ، یہ ساری خواتین فروخت کے لئے قلعے میں لائی گئیں تھی، ہر روز ایک یا دو فروخت کی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا: “ایک دن میری باری آئی۔ افغانستان کے صوبہ غزنی کے ضلع قرباغ کا رہائشی اس قلعے پر آیا اور مجھے ۱۳ ہزار روپے میں خریدا۔ میں نے اس کے ساتھ ۲۰ سال پاکستان میں گزارے۔” اور ۲۰ سال سے افغانستان میں اس کے ساتھ رہ رہی ہوں۔

شوبہ نے کہا کہ اس کے اپنے افغان شوہر سے کوئی اولاد نہیں ہے لیکن وہ خوشی خوشی زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ، “میرا سب سے چھوٹا بیٹا فوت ہوگیا ہے ، اس کے بچے بنگلہ دیش میں ہیں ، لیکن میرا بڑا بیٹا ذاکر حسین سعودی عرب میں ہے ، جہاں میں واٹس ایپ کے ذریعہ دونوں خاندانوں سے رابطہ کرسکتی ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے پوتے اور بیٹے اسے دیکھنے کے خواہاں ہی ، لیکن سہولیات کے فقدان کی وجہ سے وہ اپنے کنبے سے دوبارہ مل نہیں سکتی۔

شوبا کے شوہر عبدالحبیب نے بتایا کہ اس نے بنگالی خاتون کو پاکستان سے خریدا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ عورت اپنے آبائی وطن بنگلہ دیش واپس جاکر اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ ملنا چاہتی ہے تو اسے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔

عبد الحبیب نے مزید کہا: “میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ وہ اس کو اپنے وطن بیجھ سکو اسلیے حکومت افعانستان تعاون کرے کہ یہ اپنے پیارو سے مل سکے۔