بلدیاتی حکومتوں کو غیرفغل کرنا نئی سیاسی لیڈرشپ کے نشونمعہ کو روکنے کے مترداف ہے:لوکل کونسل ایسوسی ایشن کے پی

مردان میں مقامی حکومتوں کے کونسل ایسوسی ایشن کا اجلاس طلب کیا گیا تھا تاکہ لوگوں کو نئی ترمیم کے بارے میں آگاہ کیا جائےاور جلد سے جلد صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوسکے۔ خیبر پختونخوا میں پچھلے ۱۵ ماہ سے انتخابات نہیں ہوئیے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خیبر پختونحوا کے لوکل کونسل یونین ایسوسی ایشن کے چیرمین ہمایت اللہ مایار جو سابقہ ناظم اور قومی اسبلی کے ممبر رہ چکے ہے نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ صوبے میں پچھلے ۱۵ ماہ سے بلدیاتی انتحابات تعطل کا شکار ہے انہوں نے مزید کہا کہ انتحابات منعقد نہ کرنا قانون اور ائین کی خلاف ورزی ہے ۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ لوکل گورنمنٹ ۲۰۱۹ کے ترمیم کے مطابق اختیارات تحصیل کی سطح پر منتقل کئے گئے ہے مگر ان پر عمل ممکن نہیں” ضلعی خکومتں مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہیں اور اختیارات تحصیل سطح پر دے دیئے کئے ہیں، “پر جب ضلع کی سطح پر کمشنرز اور باقی بیروکریسی کے پاس سارے اختیارات موجود ہونگے تو وہاں تحصیلوں کی خکومتوں کی کیا اہمیت رہ جائے گی”؟ انہوں نے سوال اٹھایا۔

یاد رہے خیبر پختونحوا حکومت نے ۲۰۱۳ کے بلدیاتی قانون میں تبدیلی کرکے ۲۰۱۹ میں اختیارات تحصیلوں کو منتقل کر دیئے تھے۔

تقریب میں صوبے بھر سے مختلف سیاسی پارٹیوں کے یونین کونسل، تحصیل اور ضلعی قونسلروں نے شرکت کی۔

اجلاس میں شریک ممبران کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے اگست ۲۰۱۹ میں مقامی حکومتوں کا خاتمہ کر دیا تھا جس سے ترقیاتی کام متاثر ہوئے ہیں۔

اجلاس میں شریک خاتون قونسلر نصرت آرا نے بتایا کہ نئے بلدیاتی قانون میں خواتین کی نمائنداگی کم کر دی گئی ہے۔

مرکز اور صوبے میں حکومتی پارٹی تحریک انصاف سے تعلق رکنے والے شاہد خان کا کہنا ہے کہ حکومت اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے میں سنجیدہ ہے مگر کرونا وبہ کی وجہ سے انتحابات کرانا ممکن نہیں۔

سیاسی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی نظام کو مستحکم کرنے سے نہ صرف ترقیاتی کام نچلی سطح پر ممکن ہوتے ہیں بلکہ سیاسی لیڈر شپ بھی پروان چڑتھی ہے۔