بلاول بھٹو کا انٹرویو ایک دھچکا۔۔۔

شیراز پراچہ

مجھے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بی بی سی کو دیا گیا انٹرویو پڑھ کر افسوس ہوا ہے, دھچکا لگا ہے- پی پی پی کے نوجوان چیئرمین نے یہ انٹرویو بی بی سی اردو سروس کو گلگت بلتستان میں دیا ہے- بلاول بھٹو گلگت قانون ساز اسمبلی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں وہاں موجود ہیں- یہ انٹرویو بی بی سی اردو سروس کی ویب سائیٹ پر شائع ہوا ہے-اس انٹرویو کا وقت معنی خیز ہے اور یہ خود غرضانہ منشا پر مبنی ہے نیز یہ پی ڈی ایم کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔

بلاول بھٹو کا مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کےموقف سے فاضلہ اختیار کرنے کا ایک مقصد گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی یقینی بنانے کی کوشش ہے- بلاول بھٹو زرداری نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اور انکی پارٹی نواز شریف کی اختیار کی گئی لائن سے مختلف سوچ رکھتی ہیں- یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور میاں محمد نواز شریف کی بیٹی مریم نواز بھی اس وقت گلگت بلتستان کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے کل اور آج کامیاب جلسے کیئے ہیں، بلاول بھٹو گزشتہ کئی ہفتوں سے گلگت بلتستان میں موجود ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے یہ انتخابی مہم بہت محنت اور دل لگا کر چلائی ہے- بلاول بھٹو سے پہلے کسی قومی سیاسی لیڈر نے گلگت بلتستان کے کونے کونے میں جاکر اس طرح انتخابی اور رابطہ عوام مہم نہیں چلائی- بلاول بھٹو کا خیال تھا اور ہے کہ اس عوامی مہم کی نتیجے میں پیپلز پارٹی کو 15 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں فیصلہ کن نشستیں حاصل ہوسکتی ہیں اور پیپلز پارٹی وہاں پر اپنی حکومت بھی بنا سکتی ہے -شائد بلاول بھٹو کو ان انتخابات سے پہلے کچھ یقین دھانی بھی کرا دی گئی ہو کہ وہ وہاں پر انتخابات میں کامیاب ہوسکتے ہیں ، لیکن بلاول ان یقین دھانیوں سے مطمئن نظر نہیں آتے اور ان کا آج کا انٹرویو ان قوتوں اور طاقتوں کو یہ یقین دلانے کی ایک کوشش ہے کہ وہ میاں محمد نواز شریف کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے اور پیپلز پارٹی بدستور پاور پالیٹکس کرتی رہے گی۔

مریم نواز شریف کا گلگت بلتستان جانا بھی بلاول بھٹو کے لیئے مشکل کا باعث ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ وہ بلاول سے زیادہ کھلے انداز میں اور دلیری سے بات کرتی ہیں اور انہوں نے واضح موقف اپنایا ہے- مریم اور ان کے والد ایک ہی صفحے پر ہیں جبکہ بلاول ان لوگوں کے درمیان گھرے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ سے قریب ہیں اور ان لوگوں کے ذاتی مفادات ہیں۔

پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں اپنی حکومت تشکیل دے سکتی ہے اور اقتدار کی سیاست کے ذریعے وفاقی حکومت یا مستقبل میں کسی سیٹ اپ کا حصہ بھی بن سکتی ہے۔
پارٹی نے 1988 سے اقتدار کی سیاست کی اور اصولوں پر سمجھوتہ کیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ہمیشہ اسے محدود اختیارات والی مشروط حکومت ملی- پیپلز پارٹی نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شراکت کی بھاری قیمت ادا کی۔ ہر بار اس کی حکومت کو بدعنوانی کے الزامات کے بادل میں بدنام اور برخاست کیا گیا یہاں تک کہ بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی کی ایک سڑک پر قتل کر دیا گیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ان سانحات اور ناکامیوں سے سبق نہیں سیکھا۔

بلاول جوان ہیں۔ سیاست میں ان کا طویل سفر ہے۔ اسٹیبلشمنٹ پر ان کی تنقید درست لیکن نرم ہے۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ مریم اور نواز شریف عوام کی سیاست کی سمجھ کو ایک نئی سطح پر لے گئے ہیں خاص طور پر صوبہ پنجاب میں- اب اس صوبے میں عوام جارحانہ سیاست چاہتے ہیں۔ وہ نواز شریف اور مریم کو پسند کرتے ہیں۔ اگر بلاول پنجاب کے لوگوں کے دل جیتنا چاہتے ہیں تو انہیں سختی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہیں مریم نواز سے زیادہ جرات مند اور ترقی پسند ہونا پڑے گا۔

پورے بھٹو خاندان کے قتل اور مرکز کی امتیازی پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ سندھ میں عوام اسٹیبلشمنٹ مخالف ہیں- دیہی سندھ میں لوگ پیپلز پارٹی کو اینٹی اسٹبلشیمنٹ پارٹی سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ آصف علی زرداری کی پالیسیوں کا سندھ میں پیپلز پارٹی پر اثر پڑا ہے اگر اب بلاول اقتدار کی سیاست اور سمجھوتوں کی سیاست میں ملوث ہوں گے تو یقینا انہیں اقتدار میں حصہ تو مل سکتا ہے لیکن وہ اپنے ہوم گراؤنڈ — سندھ میں بھی عوامی حمایت سے محروم ہوجائیں گے اور پیپلز پارٹی وہاں مقبولیت مزید کھو دے گی اور بلاول شاید پیر پگارا یا چوہدری شجاعت
بن جائیں۔۔۔۔۔