برطانیہ نے راؤ انوار پر پابندیاں کیوں عائد کی؟

برطانوی حکومت نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ احمد انور خان (راؤ انوار) ​​کو”انسانی حقوق کی تاریخی پامالیوں کے لئے ، مظاہرین اور اقلیتی گروہوں کے غیر قانونی عدالتی قتل پر” برطانیہ کے بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ان کا سفر کرنا ممنوع ہے اور اگر اس کے پاس برطانیہ میں اثاثے ہیں تو وہ منجمد ہوجائے گے۔

برطانوی حکومت نے پاکستان کے صوبہ سندھ کے ایک سابق پولیس افسر راؤ انوار پر انسانی حقوق کی پامالی کے الزام پر پابندی عائد کردی ہے۔

راؤ انوار پر ایک سو نوے (۱۹۰) مقابلے (پولیس کے ذریعہ لوگوں کے قتل) میں ملوث ہونے کا الزام ہے اور اس کے نتیجے میں تقریبا چار سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

یاد رہے کہ راؤ انوار پر ۲۰۱۸ میں نقیب اللہ محسود نامی نوجوان پشتون کو قتل کرنے کا بھی الزام تھا۔ نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف پشتونوں خصوصا پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا ، لیکن راؤ انوار کو ابھی تک اس معاملے میں کسی عدالت نے سزا نہیں سنائی۔

راؤ انوار کے علاوہ ، برطانیہ نے 10 دیگر افراد کے خلاف بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ، یہ سبھی پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کے شہری ہیں۔

برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزام میں امریکہ کے ساتھ مربوط اقدام میں 11 افراد پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ ان میں گامبیا کے سابق صدر یحییٰ جامہ بھی شامل ہیں۔

برطانوی سکریٹری خارجہ ڈومینک رابب نے ایک بیان میں کہا ، “برطانیہ اور ہمارے اتحادی ان افراد کی طرف سے کی جانے والی سنگین اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو منظر عام پر لانے کیلے ان پر عائد پابندیاں لگا رہے ہیں۔

برطانیہ کی جانب سے پابندی عائد 11 افراد کی فہرست میں پاکستان ، روس ، وینزویلا اور گیمبیا سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی عہدیداران کے علاوہ گیمبیا کے سابق صدر یحییٰ جامہ کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔