اپوزیشن اتحاد وقت کی ضرورت

پاکستان کو بنے تقریبا ستر سال گزرگئے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ابتدا سے لیکر آج تک جمہوریت اس طرح پروان نہیں چھڑا جس طرح ہونا چاہیے۔ بنیان پاکستان نے امور مملکت چلانے کیلئے جمہوری پارلیمانی نظام تجویز کیا تھا لیکن چند ہی سالوں میں فوجی امر نے شب خون مار کر جمہوریت کا تختہ الٹ دیا اور آئین کو معطل کیا۔ اس وقت سے لیکر آج تک پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت بدستور یرغمال ہے۔ پاکستان میں مارشل لاء کے ادوار پر بہت لکھا جاسکتا ہے لیکن میں اس باپ میں جانا نہیں چاہتا۔موجودہ نظام حکومت بھی اس مارشل لاء دور حکومت سے کچھ مختلف نہیں بلکہ کہیں جگہوں پر تو یہ نظام حکومت مارشل لاء سے بھی بدتر دکھائی دے رہا ہے میڈیا کو یہاں مثال کے طور پر لیا جائے تو پاکستان کے تاریخ میں اتنے پابندیوں کا سامنا پہلے کبھی میڈیا کو نہیں کرنا پڑا جو سامنا اب کرنا پڑھ رہا ہے۔ میڈیا ہاوسز کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے ۔ مالکان کو مجبور کیا جارہا ہے اپنی پسند کے خبریں شائع کیا جارہا جس کےلئے مثبت رپورٹنگ کی اصطلاح استعمال کیا جارہا ہے۔ اب تو صحافیوں پر محض حکومت مخالف ٹوئٹ پر غداری کے پرچے درج کرائے جاتے ہیں المختصر میڈیا کے حوالے سے دنیا کے بدترین ڈکٹیٹر شپ پرجو الزامات لگائے جاتے ہیں تو وہ اس نظام حکومت پر فٹ اتے ہیں۔ صرف میڈیا ہی نے نظام حکومت کے جتنے بھی شعبے سب کے سب کا ستیاناس کردیا ۔ کمزور اور ناقص معاشی فیصلوں اور پالیسیوں سے معیشیت کا جو حال کردیا ہے تو وہ بھی سب کے سامنے ہیں۔خارجہ محاذ پر کوئی موثر یا خاطر خواہ کامیابی اب تک نہیں ملی۔ اپوزیشن کو دیوار سے لگایا جارہا ہے پارلیمان کو مچھلی بازار میں تبدیل کر رکھا ہے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی آرڈنینس کے ذریعے حکومت کو چلایا جارہا ہے اور سب سے بڑ کر مہنگائی اسمان کو چھو رہا ہے ۔ روزمرہ استعمال کے چیزیں عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہے۔ نظام حکومت کو ڈکٹرائن اور تجربات پر چلایا جارہا ہے گورننس کا کوئی نام ہی نظر نہیں ارہا ۔ کوئی بھی چیز حکومتی ریڈار پر نہیں آرہا تو ایسی وقت میں اپوزیشن جماعتوں کا اکٹھا ہونا عوام کیلئے بہت بڑا ریلیف ہے کیونکہ اپوزیشن کا آئینی فریضہ بھی یہی ہے کہ حکومت وقت کی اصلاح کریں اور حکومت کی ان تمام پالیسیوں کی مخالفت کریں جو عام عوام کے مفاد میں نہیں ہو۔ پاکستان کے عوام اپوزیشن اتحاد” پی ڈی ایم “سے یہی امید لگا کہ بیٹھے ہیں ۔ اپوزیشن کو اس یرغمال جمہوریت کو حقیقی معنوں میں بحال کرنا ہوگا۔ ملک کو آئین کے تابع لانا ہوگا کیونکہ ملک آئین ہی سے چلتا کسی ڈاکٹرئن یا تجربات سے نہیں ۔ ملک میں عام عوام کے ووٹ کی تقدس کو بحال کرنا ہوگا ۔ان سب کاموں کےلئے اپوزیشن کو اپنے درمیان پراعتماد فضاء قائم کرنا ہوگا ۔ پاکستانی عوام پی ڈی ایم کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہی اور اپوزیشن رہمناؤں کو بھی پاکستان کے عوام کے امیدوں پر پورا اترنا ہوگا۔اگر خدانخواستہ یہ اتحاد بھی غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں یرغمال ہوا تو پھر معاملہ کوئی اور رخ اختیار کریگا۔

تحریر : ذوہیب حسن