اٹھ آگست ایک سیاہ ترین دن جب بلوچستان کے وکلاء کی ایک پوری نسل کو صفحہِ ہستی سے مٹا دیا گیا

دو ہزار سولہ میں آج کا دِن یعنی 8 آگست ایک سیاہ ترین دن تھا جب کوئٹہ میں ایک وکیل رہنما کو مارا گیا اور جب لوگ اور خاص کر وکلاء سول ہسپتال میں جمع ہوئے تو وہاں بم دھماکہ کرکے بلوچستان کے وکلاء کی ایک پوری نسل کو صفحہِ ہستی سے مٹا دیا گیا جس میں 80 افراد شہید جبکہ سینکٹروں زخمی ھوئے۔ 5 سال گزرنے کے باوجود سانحہ کے اثرات وکلاء اور عوام کے ذھنوں سے ختم نہیں ھو سکے جبکہ افسوس اِس بات پر کہ ذمہ داروں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔

داعش اور تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ جماعت الاحرار دونوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور احسان اللہ احسان نے کہا تھا ایسے حملے جاری رہینگے۔ اِسی حملے سمیت ایسے بہت سارے حملے کرکے معصوم لوگوں کو مارنے والے قاتل احسان اللہ احسان پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے تحویل میں پشاور میں ایک بنگلے میں اپنے بیوی بچوں سمیت آرام سے کئی سال گزارنے کے بعد چھوڑ دئے گئے۔

کوئٹہ وکلاء پر حملے کی انکوائری رپورٹ میں جسٹس فائز عیسی نے وزارت داخلہ، آئی ایس آئی، نیکٹا، ایف سی، پولیس وغیرہ حتی کہ محکمہ صحت کے ناقص انتظامات اور میڈیا تک کے کردار پر بات کی، حملہ میں ملوث کالعدم تنظیموں کے ساتھ سیکیورٹی و سول محکموں کی نااہلی کی نشاندھی کی اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لئے سفارشات مرتب کی لیکن وزیر داخلہ چوھدری نثار اور آئی ایس آئی کو فائز عیسیٰ کے کام پر غصہ آیا اور اپنی اصلاح کی بجائے فائز عیسی کے خلاف محاذ جنگ کھول لیا اور سفارشات پر عمل کی بجائے جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کی بنیاد رکھ دی گئی جِس کا خمیازہ وہ آج تک بھگت رہے ہیں۔

اب آپ ہی بتائے کہ کوئٹہ کے وکلاء سمیت ہمارے سینکڑوں معصوم لوگوں کے قاتل اور اُن کے سرپرست کون ہیں؟ کوئٹہ کے وکلاء کیوں مرے؟ کِس نے مارے؟ دہشت گرد کہاں سے آئے؟ کہاں چلے گئے؟ حملے کی ذمہ داری لینے والے کو کِس نے چھوڑا؟ اربوں کا بجٹ کھانے والے سیکیورٹی ادارے اور ایجنسیاں کہاں تھی؟ کِس نے غفلت کی؟ کِس کے خلاف مقدمہ ہوا؟ کتنی تحقیقات ہوئی؟ کِس کو سزا مِلی؟

نہیں کچھ بھی نہیں ہوا کیونکہ چوکیدار ہی ہمارا قاتل ہے۔