امید ہے اہل شعار اصل مدعے کو سمجھ کر پینٹینگ کی نوعیت پر سوال نہیں اٹھائیں گے

فیس بک پوسٹ ایسر شیرانی

زیر نظر پینٹنگ جس میں ایک خاتون ایک بوڑھے مرد کو جیل کے اندر دودھ پلا رہی ہے 30 ملین یورو میں فروخت ہوئی۔ یہ پینٹینگ تو بظاہر فحش اور نامناسب لگ سکتی ہے لیکن اسکے پس منظر میں کہانی ایک اہم تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔
اس بوڑھے آدمی کو فرانس کے بادشاہ لویس ۱۴ کے دور میں روٹی چوری کرنے کے پاداش میں بھوکا مارنے کی سزا دی گئی۔ یہ عورت ان کی واحد بیٹی اور واحد شخصیت تھی جنکو جیل جانے کی اجازت تھی۔ ان کو روز ملنے کی اجازت تھی لیکن مکمل تلاشی لی جاتی تھی کہ ساتھ کچھ کھانے کا نہ لےکے جاسکے۔

4 مہینے گزرنے کے بعد جب وہ شخص بغیر وزن کم کئے زندہ رہا تو جیل انتظامیہ پریشانی ہوئی اور بات کی حقائق جاننے کیلئے جاسوسی شروع کی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ بیٹی اپنے بچے کے حصے کی اپنے چھاتی کا دودھ اپنے باپ کو زندہ رکھنے کیلئے پلاتی ہے تو انکی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ جج کو یہ دیکھ کر ایک بیٹی کے دل میں باپ کیلئے شفقت اور پیار کا اندازہ ہو گیا اور انکے باپ کی سزا معاف کرکے انکو آزاد کر دیا۔

تاریخ کا یہ چھوٹا باب ہماری توجوں ایک خاتون کی زندگی کی اس پیار اور شفقت کی طرف مبذول کرتی ہے جنہیں باپ، بیٹا اور شوہر عموما نظرانداز کردیتے ہیں۔

امید ہے اہل شعار اصل مدعے کو سمجھ کر پینٹینگ کی نوعیت پر سوال نہیں اٹھائیں گے۔

میں ایسی کامریڈ بیٹیوں اور بہنوں کو لال سلام پیش کرتا ہوں میرے ساتھ الفاظ نہیں کہ میں بیان کرلو