امریکی الیکشن! پاپولزم کی شکست کی شروعات

ضیاء اللہ ہمدرد

امریکہ کا پاگل صدر اور مودی، عمران خان کا جگری دوست ٹرمپ الیکشن ہار گیا اور زرداری، حسین حقانی اور پیپلز پارٹی سمیت پاکستان کے غداروں کا دوست جو بائیڈن الیکشن جیت گیا۔ پاپولزم کی جو لہر پوری دنیا میں اٹھی تھی،اور امریکہ سے ہوتے ہوئے برطانیہ، ہندوستان، پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک تک پہنچی تھی اور جمہوری اقدار جیسے کہ مساوات، برابری، انسانی حقوق اور آئین و قانون کے احترام کی جگہ نفرت، تعصب، مذہب کے ذاتی اور سیاسی استعمال، فاشزم، نسل پرستی اور پولارائزیشن نے لے تھی، آج اس کا ایک اہم ستون گر گیا ہے۔ ٹرمپ کے آنے سے امریکہ میں نسل پرستی پروان چڑھی، مسلمانوں سمیت تارکین وطن پر وہاں کے علاقائی پاگلوں نے حملے شروع کیے، نسل پرستی میں اضافہ ہوا۔ کالے امریکیوں پر گوروں کے مظالم مین اضافہ ہوا۔

پاپولزم کی لہر برطانیہ پہنچی تو برطانیہ میں دائیں بازو کی جماعت اقتدار میں آئی، جنہوں نے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالنے کے بعد امیگرنٹس، پناہ گزینوں اور عراق، شام اور دیگر ممالک سے جنگوں کی وجہ سے آنے والے لوگوں کے لئے پالیسیاں سخت کیں اور انسانی حقوق کے معاہدوں سے نکلنے کا عندیہ دیا، جس کا مطلب ہے کہ تارکین وطن خاص طور پر غریب مہاجرین کے مسائل میں اضافہ ہونے کو ہے۔ پاپولزم کی لہر جنوبی ایشیا پہنچی تو ہندوستان میں مودی دوسری بار منتخب ہوا اور کشمیر پر یک طرفہ طور پر قبضہ جمالیا اور ہندوستان کے اندر مسلمانوں پر تشدد میں اضافہ ہوا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کے خلاف نیا محاذ کھول دیا اور مشرق وسطیٰ کے عرب شیخوں کو اپنے ساتھ ملا کر اور درا دھمکاکر کہ ہم تمہارے ملک میں بھی عراق کی طرح جمہوریت لے آئیںگے اور داعش جیسے خنزیر مسلط کردیں گے، ان سے زبردستی اسرائیل کو تسلیم کروایا۔

ٹرمپ اور مودی کی وجہ سے پاکستان میں بھی انتہاپسندی پروان چڑھی۔ ریاست نے خادم رضوی سمیت دیگر مذہبی جنونیوں کو استعمال کرنا شروع کیا، احسان اللہ احسان کو بھگایا، حامد الحقوں کے پٹے کھول دیے اوریہ پالیسی آج بھی جاری ہے۔ عمران خان کی حکومت اور اس کے ناہل لوگوں کو اس کے سیلیکٹرز نے میڈیا، عدلیہ اور دیگر جمہوری اداروں کے خلاف محاذ کھولنے پر مجبور کیا جو ملک کو جمہوریت اور جمہوری روایات سے امریت اور فاشزم کی جانب لے گیا اور ملک میں پاگل نوجوانوں، گالم گلوچ اور بکواسیات میں اضافہ ہوا۔ الغرض امریکہ، برطانیہ، ہندوستان اور پاکستان میں پاپولزم کی جو لہر اٹھی تھی وہ سب ایک دوسرے کو زندگی بخشنے لگے۔ ایک پاگل کی وجہ سے دوسرے ملک میں بھی پاگل کو سپورٹ ملنا شروع ہوئی اور یہ سارے پاگل جنہوں نے پوری دنیا کو پاگل خانہ بنانے کے لئے کمرکس لی تھی، خود آپس میں ایک دوسرے کے دوست بن گئے۔

ٹرمپ کے دنیا کے فساد اور تعمیر کے مرکز وائٹ ہاوس سے نکالے جانے سے دنیا کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکہ کا نومنتخب صدر جو بائیڈن وہی شخص ہے جو اوبامہ کے دور میں امریکہ کا نائب صدر تھا اور پاکستان مین پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت تھی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں مشرف کے بعد جمہوریت پروان چڑھ رہی تھی۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد امریکہ نے پاکستان کے جممہوری اداروں کو مضبوط کرنا شروع کیا تھا۔ امریکی سینٹ کے دو ارکان جان کیری اور لوگر نے ایک بل کے ذریعے پاکستان کی جمہوری حکومت کو اس شرط پر سات ارب ڈالر دئے کہ فوج جمہوری نظام کا بوریا بستر گول نہیں کرے گی، یہ پہلی امریکی امداد تھی جو فوج کی بجائے عوام کو دی گئی، جس کے جواب میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کو حب الوطنی کے سند جاری کرنے والوں نے غدار بنادیا تھا اور پیپلز پارٹی کو آج تک اس کی سزا مل رہی ہے۔ حسین حقانی جو بائیڈن کو پاکستان لاکر اسے ہلالِ امتیاز کا تمغہ دے چکا تھا اس لئے شجاع پاشا کے کہنے پر عمران خان اور دوسرے کٹھ پتلیوں نے مل کر اس کے خلاف میمو گیٹ سکینڈل کو خوب اچھالا جو بعد میں عدالت نے خارج کردیا تھا!

جو بائیڈن کے صدر منتخب ہونے سے جمہوریت پسند لوگوں کو امید کی ایک کرن دکھائی دی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی کی حکومت آنے سے ٹرمپ کی طرف سے پھیلایے گئے گند فساد، نفرت، پولرائزیشن، نسل پرستی اور دیگر بیماریوں کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ اگر چہ ایران اور مشرق وسطیٰ سمیت پالیسی تبدیلی ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور افغانستان اور پاکستان بارے بھی یہ حکومت پچھلی مرتبہ کوئی خاص تبدیلی نہیں لاسکی تھی اور وہ معمولی جمہوری سفر جو پیپلز پارٹی نے اوبامہ اور بائیڈن کے ذریعے طے کیا تھا عمران خان نے آتے ہی اس پر پانی پھیر دیا اور ملک ایک بار پھر خلائی مخلوق کے حوالے کردیا تاہم امریکہ چونکہ دنیا کا چوہدری ہے اس لئے اس میں اندرونی طور پر پالیسی کی تبدیلیوں کی وجہ سے باقی دنیا پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

البتہ ٹرمپ، مودی اور عمران خان کے آنے سے عالمی سیاست میں جو مزاح دیکھنے کو ملا اور ٹرمپ کے جانے سے جو مزاحیہ خلا پیدا ہوگا، اسے مودی اور عمران خان مل کر بھی پر نہیں کرسکیں گے۔ نیرنگیئی سیاستِ دوراں تو ملاحظہ ہو کہ ایک طرف ٹرمپ الیکشن ہارا اور دوسری جانب اس کے سارے دوستوں نے اس کو پہچاننے سے انکار کردیا۔ ابھی ٹرمپ نے شکست تسلیم نہیں کی، لیکن مودی نے فورا سے پہلے جو بائیڈن کو ٹوئیٹر پر مبارکباد دی اور عمران خان کو حیرت زدہ کردیا، کہ یہی مودی تو ٹرمپ کو انڈیا بلا کر ایک واری پھر ٹرمپ سرکار کے نعرے لگایا کرتا تھا۔ جواب میں اپنے ہینڈسم پاگل نے بھی امریکی صدر کو ٹوئیٹر پر مبارکباد دیتے وقت اس کو ایجنڈا بھی دے دیا کہ ہم دونوں نے مل کر کرپشن کے خلاف جنگ کرنی ہے، شاید اسے کسی نے بتایا ہے کہ امریکہ میں بھی یہ چورن بکتا ہے۔ عمران خان اور مودی کا ٹوئیٹ دیکھ کر ٹرمپ نے غصے میں آکر گالف کھیلنا شروع کیا۔

عمران خان کی طرح ٹرمپ کا بھی یہ ماننا ہے کہ جو ہار نہیں مانتا وہ کبھی نہیں ہارتا اس لئے آپ جو بائیڈن کی جیت کو ٹرمپ کی جیت قرار دے سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس کے ساتھ بھی بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے اور چار حلقوں (چار ریاستوں) کو دوبارہ کھولنے کے لئے عدالتوں میں جانے کا اعلان کیاہے۔ ٹرمپ کے ساتھ باقی دھاندلی ہوئی ہو یا نہیں لیکن اسے گدھے کی بجائے ہاتھی کا نشان دینا الیکشن کمیشن کی جانب سے اس کے ساتھ یقینا بہت بڑی دھاندلی ہے۔ ٹرمپ کے جانے کے بعد عمران خان اور سپین خان کے مابین مقابلہ بھی مزید شت اختیار کرے گا۔ کل پوری دنیا نے دیکھا کہ ٹرمپ کی شکست کے خبروں کے ساتھ ہی سپین خان کے چاہنے والوں میں بے پناہ اضافہ ہوا اور پورا سوات اور پاکستان عمران خان کی جگہ سپین خان کو سن رہا تھا۔ اب تو یقین اور بھی پختہ ہوگیا ہے کہ سپین خان اس نالائق اور ناہل حکومت کا بوریا بستر گول کرکے ہیی دم لے گا

ضیاء اللہ ہمدرد