اقبال اور مطالعہ پاکستان۔

تحریر: ابن حسان

‏انسان کا عمل اس کے کردار کا عکس ہوتا ہے.اقبال نے کبھی بھی انگریز سامراج کی مزاحمت تو درکنار, بات تک نہیں کی. جلیانوالہ باغ کے قتل عام والے واقع پر گونگے ہوگئے ایک لفظ انگریز سامراج کے خلاف نہ کہا کہ کہیں سر کا خطاب خطرے میں نہ پڑ جائے۔

رابندر ناتھ ٹیگور کے عمل اور کردار کے سامنے اقبال انتہائی کوتاہ قد ہے. رابندر ناتھ ٹیگور وہ پہلا غیر یورپین تھا جسے 1913 نوبل پرائز ملا.رابندر ناتھ ٹیگور بنگال کا ہونے کے باوجود پنجاب میں جلیانوالہ باغ کے سانحے پر سر کا خطاب انگریزوں کو یہ کہہ کر واپس کر دیتا ہے ‏کہ “وہ وقت آگیا ہے کہ ان ایوارڈز اور اعزازات کو مسترد کردیا جائے جن کے دینے والے میرے ملک کے باشندوں سے انسانیت سوز سلوک کریں۔ لہذا میری تاج برطانیہ سے درخواست ہے کہ مجھے سر کا دیا ہوا خطاب واپس لے لیا جائے”۔

اقبال کے بارے میں طالبعلموں کو پڑھایا جاتا ہے کہ اقبال نظریہ پاکستان کے بانی ہیں, یہ بالکل جھوٹ ہے,جناح یا مسلم لیگ نے کبھی اس دعوے کا تذکرہ تک نہیں کیا.ملاؤں اور اسٹیبلشمنٹ کی ملی بھگت سے,تصوف اور روحانی نادیدہ بابوں کی افیم تیار کی گئی,جس میں عملیت پسندی کا کوئی کام نہیں۔

لہذا دنیاوی فہم و فراست سے عاری دولے شاہ کے چوہے ٹائپ قوم تیار ہو جسے کنٹرول کرنا نسبتاً آسان ہے۔

‏پنجاب کی سیاسی روایات کے عین مطابق انگریزوں سے وفاداری وہاں کے جاگیرداروں کا خاصہ رہی ہے اسی پر عمل کرتے ہوئے اقبال نے انگریزوں کی بوٹ پالش یونینِسٹ پارٹی جوائن کی۔

‏یاد رہے کہ ایک زمانے میں آل انڈیا مسلم لیگ دو دھڑوں میں بٹ گئی یعنی جناح لیگ اور شفیع لیگ تو علامہ اقبال نہ صرف شفیع لیگ کے ساتھ تھے بلکہ اسکے سیکریٹری جنرل بھی رہے۔

‏پنجاب کے بالادست طبقوں کو پنجاب سے کسی ایسے کردار کی ضرورت تھی جسے وہ گجرات کی ماڈرن وضع قطع کی حامل شخصیت یعنی جناح کے مقابل لایا جاسکے, سو اقبال سے بہتر اور کون ہوسکتا تھا. اقبال کی شخصیت تضادات کا مجموعہ ہے,ان کی شاعری میں مزہبی اور صوفیانہ رنگ بہت گہرا ہے,لہذا وقت گزرنے کے ساتھ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے پاکستانی عوام کی تصوف اور مزہب کے ساتھ جذباتی وابستگی کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے اقبال کا ایسا خاکہ کھینچا کہ اگر آج اقبال بھی مطالعہ پاکستان پڑھ لیں تو دوچار بار ضرور بےہوش ہوجائیں, علامہ اقبال کو 1930کے خطبہ الہ باد کو بنیاد بنا.کر انہیں دو قومی نظریئے کا بانی اور خالق پاکستان کہا جاتا ہے. اقبال کی اس تقریر کی محض دو لائنیں رٹو طوطےکی طرح دُہرا دی جاتی ہیں اور باقی تمام تقریر کو پسِ پُشت ڈال دیا جاتا ہے. در حقیقت پاکستان اور انڈیا کی تخلیق برطانیہ نے اپنے مقاصد کے لئے کی۔
‏الہ آباد 1930 کے اس خطبے میں اقبال کہتے ہیں: “میں زاتی طور پر چاہتا ہوں کہ پنجاب ، این ڈبلیو ایف پی,سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک صوبہ بنادیا جائے جو کہ اپنےمعاملات چلانے میں خود مختار ہو,چاہے وہ برٹش انڈیا میں ہو یا اسکے بغیر”۔

‏مطالعہ پاکستان والے بس یہاں اٹک جاتے ہیں۔
‏لیکن اقبال آگے کیا کہتے ہیں یہ نہیں بتاتے۔
‏اقبال کہتے ہیں
‏”اگر شمال مغربی ہندوستان( یعنی پنجاب، این ڈبلیو ایف پی,سندھ اور بلوچستان صوبہ) کے مسلمانوں کو موقع دیا جائےتو ان سے بڑا ہندوستان کا محافظ کوئی اور نہ ہوگا بیرونی حملوں کی صورت میں”۔
‏اقبال مزید فرماتے ہیں:”میں ہندوستان کےمسلمانوں کو کبھی یہ مشورہ نہیں دونگا جو وفاق کے اصولوں کے منافی ہو.نیز اگر صوبوں کی تقسیم صحیح اور اصولوں کی بنیاد پر ہو تو مخلوط اور جداگانہ انتخابات کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوجائے گا”۔
‏اقبال دراصل فیڈریشن(ہندوستان)میں مسلمانوں کےلئے ایک الگ صوبےکےتجویز پیش کررہے ہیں اور بس
‏اقبال تاج برطانیہ کے دل و جان سے وفادار تھے.ملکہ اور بادشاہوں کے لئےمرثیے اور قصیدےبھی خوب لکھے. حتیٰ کی جلیانوالہ باغ کے قصائی جنرل ڈائر کے لئے بھی قصیدہ لکھ مارا۔

اقبال نے 1918 میں پنجاب کے گورنر مائیکل او ڈائر کے نام قصیدہ لکھا تھا۔
‏اے تاجدار خطہ ءِ جنت نشان ہند
‏روشن تجلیوں سے تری خاوران ہند
‏سطوت تیری سپاہ کا سرمایہ ظفر
‏آزادہ، پرکشادہ، پری زادہ، یم سپر

‏اقبال کولونیل سسٹم کے کبھی ناقد نہیں رہے.انگریز تو ویسے بھی ان کے مائی باپ تھے.اقبال نے1930کی تقریر میں شمالی مغربی ہندوستان میں ایک مسلم صوبےکے قیام کی خواہش ظاہر کی جبکہ مسلمان تو ہندوستان کے ہر علاقےمیں سکونت پزیر تھے؟اقبال کبھی بھی برٹش انڈیاکی تقسیم کے حامی نہیں رہے۔