افغانستان میں لگنے والے اللہ اکبر کے نعرے سے پاکستان میں موجود مذہب کے ٹھیکیداروں کو چھیڑ کیوں؟۔

تحریر: مظہر آزاد

‎افغانستان کے طول و عرض میں دہشت گردوں کے خلاف عوام اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر نکلے تو پاکستان میں موجود مذہب کے ٹھیکیداروں کو اپنا کاروبار خطرے میں لگا اور مختلف پروپیگنڈے کرنے لگے۔ جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے پشاور کے امان اللہ حقانی نے یہاں تک کہہ دیا کہ “فرعون نے بھی ہلاکت کے آخری لمحات میں اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تھا لیکن اللہ نے وہی پہ ہلاک کیا”۔

‎ افغانوں نے ٹالباڼ کے قتل و غارت کے خلاف نعرہ بلند کیا تو اُس کے خلاف ایسے بیانات کھلی افغان اور افغانستان دشمنی نہیں کیونکہ یہ تو افغانستان کے عوام کا نعرہ ہے کسی غیر ملکی کا نہیں لیکن موصوف اُن کو فرعون سے تشبیہ دے رہا ہے۔ ایسا کیوں؟ کیونکہ دین کے اِن ٹھیکیداروں کے علاوہ کوئی اور اللہ اکبر کا نعرہ لگا رہا ہے اور اصل میں اِن کے خلاف لگایا جا رہا ہے اسلئے اِن کو اپنا کاروبار خطرے میں لگ رہا ہے۔ اِن کو لگتا ہے کہ اسلام اِن کی جاگیر ہے۔

‎کیا خودکش دھماکے کرتے وقت اللہ اکبر کا نعرہ لگانے سے بہتر نہیں ہے کہ امن اور یکجہتی کیلئے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا جائے؟ اسلام کے اِن ٹھیکیداروں کو اب نعرہ تکبیر سے بھی مسئلہ ہے کیونکہ یہ نعرہ دہشت گردوں کے خلاف اور امن کیلئے لگایا جا رہا ہے۔ جب ٹالباڼ اسی نعرے کا سہارا لیتے اور اسی نعرے کی آڑ میں پل، عمارت، سکول، ہسپتال اور بجلی کے ٹاور گراتے ہیں، لوگوں کو کوڑوں سے مارتے ہیں، لوگوں کو لٹکاتے ہیں اور لوگوں کے سر قلم کرتے ہیں تب آپ نے اُن کو فرعون کہا؟ جب یہ نعرہ آپ کے شہر پشاور میں بے گناہ پشتونوں کے قتل عام کیلئے روزانہ کے بنیاد پر خودکش دھماکوں میں خودکش حملہ اور لگاتا تھا تو کیا آپ نے اُن کو فرعون کہا تھا؟ نہیں کیونکہ دہشت اور پشتون نسل کُشی سے آپ کو کوئی مسلۂ نہیں بلکہ افغانستان میں امن اور خودمختاری سے آپ اور آپ کے فوجی آقاؤں کو مسئلہ ہے۔

‎اگر آپ کو لگتا ہے کہ دین آپ کا ٹھیکہ ہے اور افغانستان میں اللہ اکبر کا نعرہ لگانا صرف ٹالباڼ کا کام ہے تو پھر آپ اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر پاکستان میں کب برطانوی سامراج کے بنائے ہوئے اِس استحصالی نظام کو تباہ کرکے اسلامی امارت بنانے کیلئے جہاد شروع کرینگے؟ یہاں جمہوریت کی مظبوطی کیلئے سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر دِن رات محنت کر رہے ہو اور افغانستان میں جمہوریت کے خلاف؟ یہ بات کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا کہ اگر کسی نے منافقت سیکھنی ہو تو اِن جیسے مولویوں اور اِن کے باپ کے پاس جائے۔

‎اِن لوگوں کے کرتوت دیکھ کر بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ مذہب اور جہاد کوئی مقدس الہامی چیزیں ہے یا اِن منافقوں اور اِن کے فوجی آقاؤں کی گھر کی لونڈی ہے کیونکہ یہ دین کے مقدسات کو اپنے مرضی کے مطابق موڑتے رہتے ہیں۔ پہلے اِنہوں نے روس کے خلاف جنگ کو جہاد کہا، پھر اُنہی مجاہدین کے خلاف لڑنے والے ٹالباڼ کے جنگ کو جہاد کہا پھر ٹالباڼ کے افغان فوج کے خلاف جنگ کو جہاد کہا اور اب اپنے حفاظت کے خاطر نکلنے والے افغانوں کو فرعون کہہ رہے ہیں حالانکہ یہ سارے فساد افغان، افغانیت اور افغانستان مخالف پراجیکٹ کا حصہ ہیں۔

مظہر آزاد رابطہ کرنے کیلیے یہاں کلک کرےhttps://www.facebook.com/profile.php?id=100051015742042