آل پارٹیز کانفرنس کی سیریز

حکومت بنے ہوئے درجنوں اے پی سی ہوئے، مولانا کی اے پی سی ہوئی، اے این پی کی اے پی سی ہوئی، پی پی پی کی اے پی سی ہوئی، وکیلوں کی اے پی سی ہوئی اور آج نون لیگ کی اے پی سی ہوئی۔ ہر اے پی سی کے بعد مشترکہ اعلامیہ آتا ہے لیکن آج تک کسی بھی اے پی سی کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔

ان سارے اے پی سیز میں اب تک سب سے سنجیدہ شخص مولانا ہے جو پہلے ہی دن سے اس حکومت کے خلاف ہیں اور اس کے خلاف ایک بڑا جلسہ بھی کرچا ہے، جبکہ ان ساری پارٹیوں میں سب سے کنفیوزڈ پارٹی جماعتِ اسلامی ہے، جس نے آج اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے حکومت کے حق بیانات دئے۔ تاہم پییپلز پارٹی اور نون لیگ پچھلے کافی عرصے سے خلائی مخلوق کے ساتھ اپنے معاملات درست کرنے اور اگلی باری کے سرتوڑ کوششیں کررہی ہیں۔

آج کی اے پی سی سے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ پیپلز پارتی کے خلاف نون لیگ کو مسلسل استعامل کرنے کے بعد، نون لیگ کے خلاف تحریکِ انصاف کو استعمال کرنے کے بعد شہباز شریف کے ساتھ معاملات طے پائے گئے ہیں اور سیلیکٹرز ایک بار پھر نون لیگ کے لئے راستہ ہموار کررہے ہیں۔ اس ممکنہ تبدیلی کی وجہ بظاہر تبدیلی سرکار کی نالائقی بھی ہوسکتی ہے، یا ان سے جتنے کام لینے تھے وہ لیے جاچکے اور اب ملک کو ایک بار پھر تبدیلی کی ضرورت ہے اور ملک میں تبدیلی لانے والے چاہتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح تبدیلی ان کے ہاتھ میں ہو۔ اس تبدیلی میں کتنا وقت لگتا ہے، اس کا طریقہ کیا ہوگا، یہ معاملات اگلے چند ماہ میں مکمل طور پر واضح ہوجائیں گے۔

جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے تو اپوزیشن جب بھی حکومت کے خلاف متحد ہوئی اپنا ہی نقصان کر بیٹھی، سینٹ میں اکھٹا ہوئی تو ان کے ارکان نے کھانا بھی کھایا اور پھر اچانک ان کی اکثریت اقلیت میں بدل گئی، ایف اے ٹی ایف اور پانچ لاکھ جرمانہ اور دو سال قید کی سزا کی باری آئی تو ان کے تیس ارکان جرمانے یا قید کے خوف سے غائب ہوئے، اسے آپ اپوزیشن کی بدقسمتی کہیے یا حکومت کی خوش قسمتی کہ اپوزیشن آج بھی متحد نظر نہیں آرہی۔

آج کے اے پی سی میں نواز شریف اور زرداری کی تقریریں خود اے پی سی والوں نے سینسر کردیں لیکن یہ لوگ میڈیا سینسرشپ کے خلاف ہیں۔ انہیں جمہوریت اور یہ اس پورے پارلیمان کو جعلی سمجھتے ہیں لیکن آج بھی انہوں نے استعفے دینے کے آپشن کو سب سے آخر میں استعمال کرنے کا سوچا کہ کہیں ایسا نہ ہو، ان کی تحریک ناکام ہو اور انہیں گھر بھی جانا پڑے۔ آج تک کسی بھی قانون کو پاس ہونے سے روکنے میں انہیں کامیابی نہیں ملی، لیکن یہ سمجھتے ہیں انہیں پارلیمان میں رہ کر ہی کبھی ووٹ بیچ کر، کبھی غیر حاضر ہوکر اور کبھی مشترکہ اعلامیے جاری کرکے حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہیے۔

اے پی سی اور مشترکہ اعلامیے جاری کرنا اچھی بات ہے لیکن اس ملک میں حقیقی جمہوریت کے لئے ایک ایسے جمہوری تحریک کی ضرورت ہے جس طرح پشتون تحفظ تحریک ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی راستہ اقتدار کے حصول اور سیلیکٹرز کے ساتھ معاملات طے کرنے یا ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لئے تو کارامد ہوسکتا ہے لیکن پارلیمان، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کا واحد راستہ عوامی تحریک اور انقلاب کا راستہ ہے ورنہ یہ لوگ اسی طرح اندھیروں میں ٹامک ٹوئیان مارتے رہیں گے۔

دوسری طرف حکومتی کارکردگی اتنی بہترین ہے، لوگ اسقدر خوشحال ہیں، ملک ترقی کے ایسے منازل طے کررہا ہے کہ ابھی ابھی شیخ رشید نے کہا ہے کہ قوم نواز شریف سے زیادہ انہیں سئیرئس لیتی ہے، جبکہ کل پختونخوا کے ایک صوبائی وزیر نے ایک شخص کی چوری شدہ گاڑی برآمد ہونے پر باقاعدہ تقریب میں گاڑی کی چابی مطلوبہ شخص کے حوالے کردی ہے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتےہیں کہ حکومت چوروں کے کس قدر خلاف ہے اور احتساب کا عمل کس قدر شفاف ہے۔

مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہیں طوائف تماشبینوں میں !