آزربائیجان بھی عوام کو ایک ٹانگ پر دھوپ میں کھڑا کرسکتی تھی! لیکن

ضیاء اللہ ہمدرد

ہندوستان نے چین کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے لداخ پر قبضہ جمانے کی کوشش کی، چین نے اپنی فوج بھیج کر ان کے کئی درجن فوجیوں کو اغوا کرلیا۔ یہ دیکھ کر بھارت چیخنے اور چلانے لگا کہ کہیں چین ان کے فوجیوں کو کچا نہ چپالے، اس لئے چین کے ساتھ جنگ بندی کے لئے مذاکرات شروع کردئے اور چین کو سارے علاقے واپس کردیے۔

آرمینیا نے آذربائیجان کے علاقے پر قبضہ جمانے کی کوشش کی، ان کی حکومت نے عوام کو ایک ٹانگ پر دھوپ میں کھڑا کرنے، برطانیہ کے ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کرنے اور او آئی سی اور اقوام متحدہ کے دروازے کٹھکٹھانے اور سعودی عرب کے سامنے رونے کی بجائے اپنے فوجوں کو موبلائز کیا اور ارمیینیا کے ساتھ دو ہفتوں تک لڑائی کی، اپنا علاقہ بھی واگزار کرایا اور ان کے ایک اور اہم شہر بھی قبضہ کرلیا اور آج مجبورا آرمینیا کے وزیراعظم کو شکست تسلیم کرنا پڑی اور جنگ بندی کے لئے امن معاہدہ کرنا پڑا۔

جبکہ یہاں ہمارے وزیرداخلہ ہمارے سیاستدانوں کو طالبان سے ڈراتا ہے، احسان اللہ احسان ان کی تحویل سے بھاگ جاتا ہے، طالبان ڈی ٓائی خان کا جیل توڑ دیتے ہیں، سیاستدان حکومت کو پارلیمان میں ٹانگیں کانپنے کے طعنے دیتے ہیں اور میڈیا پر یہ بحث شروع ہوجاتی ہے کہ ٹانگیں کس کی کانپ رہی تھیں۔ جب کسی ملک کے سیکیورٹی ادارے اپنے کام کی جگہ الیکشن میں ڈیوٹی دے، سیاسی انجنیئرنگ کرے، پچاس کاروبار کرے، اپنے ہی شہریوں کے خلاف آپریشن کرے، انہیں اغوا کرے، سیاسی کارکنوں کو غدار قرار دینے کے لئے راتوں کو اٹھ ک بینرز لگائے، سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلائے، حامد الحق سے پڑوسی ملک میں جہاد کرنے کے بیانات دلوائے اور منظور، علی وزیر اور محسن داوڑ کے پیچھے پڑ جائے، حکومت بنائے اور بگاڑے، ملک میں جاری ترقیاتی کاموں کے جائزے لے، لیکن کشمیر پر گانے ریلیز کرے وہاں نہ امن قائم ہوسکتا ہے، نہ جنگ ہوسکتی ہے۔ اس ملک میں صرف خانہ جنگی ہی ہوسکتی ہے جو پچھلے بیس سال سے جاری ہے۔

ضیاء اللہ ہمدرد