آرمی پبلک اسکول بچوں کی قبریں پرانی ہوگئی ہیں لیکن والدین کے دلوں کے زخم تازہ ہیں

آرمی پبلک اسکول کے واقعے کو چھ سال ہوچکے ہیں ، لیکن چھ سال بعد ، ہمارا غم پہلے کی طرح تازہ ہے۔ ہم آج بھی اتنے ہی غمزدہ ہیں میرے پاس اس اندوہناک واقعہ کو بیان کرنے کیلیے الفاظ نہیں ہے۔

یہ ڈاکٹر امین خان کے الفاظ ہیں ، جنہوں نے آج سے چھ سال قبل پشاور آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے میں اپنے بیٹے محمد عثمان کو کھو دیا تھا۔

ڈاکٹر امین خان نے بتایا ، “ہم نے بہت کوشش کی ، ہم نے ماہر نفسیات سے مشورہ کیا ، لیکن ان چھ سالوں میں ، ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ ہم اپنے گھر میں نہیں رو ئے”۔

Read This Also: Psychological Scars Of 2014 APS Horror Continue To Prevent Some Students From Returning To Education

اس سانحے میں شہید ہونے والے بیشتر بچوں کی ماؤں ، والدین اور پیاروں کا کہنا ہے کہ سانحہ میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی قبریں چھ سال پرانی ہیں ، لیکن ان کی علیحدگی کے زخم ابھی بھی ان کے دلوں میں تازہ ہیں۔

اس واقعے میں جاں بحق ہونے والے دو بچوں کی والدہ نور اللہ درانی اور سیف اللہ درانی نے بتایا کہ وہ میرے دو بیٹے ہیں اور وہ دونوں آئی پی ایس میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا ، “میں اور میرے شوہر صبح دو بجے تک بیدار رہتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کی باتیں یاد کرتے ہیں ، ان کی تصاویر دیکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں ، اور صبح تک روتے رہتے ہیں۔

مزید یہ کہ ، “ہم ایک دوسرے کو حوصلہ دینے کے قابل بھی نہیں ہیں ، ہم نے گذشتہ چھ سالوں میں ایک رات بھی چھین کی نیند نہیں کی۔

آرمی پبلک اسکول کے واقعے کے بعد ، مقتول بچوں کے والدین نے ایک بار پھر پورے قتل عام کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور ۲۰۱۸ اکتوبر میں سپریم کورٹ کے حکم سے ایک رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا۔

جوڈیشل کمیشن نے مختلف لوگوں سے ملاقات اور گفتگو کرنے کے بعد ایک رپورٹ تیار کی اور پھر سپریم کورٹ نے رواں سال ستمبر میں یہ رپورٹ عوام کے سامنے جاری کردی۔

لیکن زیادہ تر والدین اس رپورٹ سے مطمئن نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں کے قاتلوں کے بارے نہیں بتایا گیا۔

اس واقعے میں جاں بحق ہونے والے بچوں میں سے ایک کے والد ظہور احمد نے بتایا: جیسا کہ ہم رپورٹ کے اہم نکات پر غور کرتے ہیں تو اس واقعے کے ذمہ داروں کا نام نہیں لیا گیا ہے اور یہ معلوم نہیں ہے کہ کون ذمہ دار تھا اور کس نے استعفیٰ دیا تھا ، لہذا ہم مطمئن نہیں ہیں اور تب تک مطمئن نہیں ہوں گے جب تک مجرموں کو سزا نہیں دی جاتی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مجرموں کو بروقت سزا دی جاتی تو باچا خان یونیورسٹی چارسدہ اور زرعی انسٹی ٹیوٹ پشاور جیسے واقعات نہ ہوتے۔

نیشنل ایکشن پلان کے نام سے 20 نکاتی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کا اعلان ای پی ایس واقعے کے بعد کیا گیا تھا۔ اور پھر شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے ایک فوجی آپریشن شروع کیا گیا ، جس نے سیکڑوں ہزاروں پشتونوں کو بے گھر کردیا اور اب بھی بڑی تعداد میں اپنے گھروں سے دور زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔